متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی اسپیشل اولمپکس ایتھلیٹ کی معذور افراد کی حقیقی شمولیت کے لیے اپیل

خلیج اردو
ابوظہبی: یو اے ای کی نمایاں اسپیشل اولمپکس ایتھلیٹ اور معذور افراد کے حقوق کی عالمی آواز، چائیکا القاسمی نے معذور افراد کی حقیقی شمولیت کے لیے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کو صرف علامتی اقدامات سے آگے بڑھ کر حقیقی اور قانونی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ تعلیم، روزگار اور صحت کے شعبوں میں معذور افراد کے لیے اب بھی نمایاں خلا موجود ہیں۔ چائیکا نے واضح کیا کہ معاشرہ شمولیت کو تفریحی سرگرمیوں تک محدود رکھتا ہے جبکہ اصل ضرورت قانونی سطح پر مؤثر اقدامات کرنے کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یو اے ای نے 2006 میں فیڈرل قانون نمبر 29 اور اقوام متحدہ کے معاہدے کی توثیق جیسے اہم اقدامات کیے ہیں، لیکن حقیقی شمولیت کے لیے سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ بعض اسکول اب بھی معذور بچوں کو داخلہ دینے سے انکار کرتے ہیں، خصوصی تعلیم مہنگی ہے اور جامع پروگرام ناپید ہیں۔

چائیکا نے انکشاف کیا کہ کئی خاندان اپنے بچوں کو گھروں میں قید رکھتے ہیں جہاں وہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ انہوں نے بھرتی میں امتیازی رویے، بلند شرحِ بے روزگاری اور بدسلوکی کو بھی بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اصل تبدیلی تب آئے گی جب معذور افراد کو اپنی آواز خود بلند کرنے دیا جائے۔ ان کے مطابق، اکثر اوقات معذور افراد کو خاموش کرانے یا نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو درست نہیں۔

چائیکا القاسمی نے اپنے عملی سفر سے یہ ثابت کیا ہے کہ معذور افراد کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاؤن سنڈروم کی تشخیص کے باوجود انہوں نے اسپیشل اولمپکس میں شرکت کی، کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کی اور 2019 میں ابوظہبی میں منعقدہ اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز میں مشعل بردار بنیں۔ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھی معذور افراد کی آواز بن چکی ہیں۔

انہوں نے حکومت اور نجی اداروں پر زور دیا کہ وہ خود وکالت کو فروغ دیں، تعلیمی ادارے معذور طلبہ کے لیے کھولیں، فیسیں کم کریں اور ادارے غیر امتیازی رویہ اپنائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور آسان زبان میں مواد فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

چائیکا کا کہنا تھا کہ خاندانوں کا بھی اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو گھروں میں قید نہ رکھیں بلکہ انہیں معاشرے میں آزاد اور خودمختار زندگی گزارنے کی ترغیب دیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button