
خلیج اردو
دبئی: بھارتی نژاد دبئی کے بزنس مین اور کرکٹ کے دیرینہ شائق شیم بھاٹیا نے ایک ایسا واقعہ سنایا جو افغان کرکٹ کی کہانی کو دل چھو لینے والا بنا دیتا ہے۔
2007 میں افغانستان نے عمان کے ساتھ اے سی سی ٹی ٹوئنٹی کپ جیت کر جنگ سے متاثرہ ملک میں کرکٹ کی تاریخ کا نیا باب رقم کیا۔ یہ وہ ٹیم تھی جس کے بیشتر کھلاڑی پاکستان کے پناہ گزین کیمپوں میں کھیل سیکھے تھے۔ اس کامیابی سے متاثر ہو کر بھاٹیا نے افغان بچوں کے لیے کرکٹ کٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ “میں دبئی سے کٹس نہیں بھیج سکتا تھا اس لیے بھارت سے ایئرلفٹ کروا کر بھجوائیں۔ کچھ دن بعد افغانستان کرکٹ بورڈ کے ایک نمائندے کا پیغام آیا، جس میں لکھا تھا: ہمارے بچوں نے ہمیشہ بندوقیں دیکھی تھیں، اب انہوں نے کرکٹ کے بلے دیکھے ہیں۔ یہ انہیں کھیلنے کی بہترین ترغیب ہے۔”
آج افغانستان ٹیسٹ اسٹیٹس، ورلڈ کپ سیمی فائنل اور باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کی دنیا میں نمایاں مقام بنا چکا ہے۔ بھاٹیا کو اس پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ “میں نے بہت سی ایسوسی ایٹ ٹیمیں اچھی کارکردگی دکھا کر ماند پڑتے دیکھی ہیں، لیکن افغان ٹیم بھوکی ہے اور یہی ان کا فرق ہے۔”
افغان کرکٹ کی تسلسل کی تلاش کو سابق انگلش بلے باز جوناتھن ٹراٹ کی کوچنگ نے نیا رخ دیا۔ جولائی 2022 میں بطور ہیڈ کوچ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور فٹنس پر بھرپور توجہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ٹیلنٹ تو بہت تھا لیکن ڈسپلن کی کمی تھی۔ ہم نے محنت شروع کی اور جلد ہی نتائج آنے لگے۔ آج بھی میں اپنے اسپنرز کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتا ہوں۔”
اگرچہ افغانستان نے شارجہ میں سہ ملکی سیریز کا فائنل پاکستان کے ہاتھوں بڑے فرق سے ہارا، لیکن ایشیا کپ میں اسے ڈارک ہارس سمجھا جا رہا ہے۔ منگل کو ابوظہبی میں ٹورنامنٹ کا آغاز ہوگا جہاں راشد خان کی قیادت میں افغانستان ہانگ کانگ کا سامنا کرے گا۔
ٹراٹ نے تاہم کہا کہ وہ آگے کے اہداف مقرر نہیں کرتے بلکہ ایک وقت میں ایک میچ پر توجہ رکھتے ہیں تاکہ غیر ضروری غلطیوں سے بچا جا سکے۔
بھاٹیا، جو عام طور پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دیکھنے کے شوقین نہیں، اس بار افغان ٹیم کی بھرپور حمایت کریں گے۔ تاہم انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “میں افغانستان کے حق میں ہر میچ میں دعا کروں گا، لیکن بھارت کے خلاف نہیں۔





