
خلیج اردو
ایک ہونہار فٹبالر، جس کے یورپ میں کھیلنے کے خواب انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنسنے سے چکنا چور ہوگئے تھے، آج دبئی پولیس کا اینٹی ہیومن ٹریفکنگ ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد دوسروں کو اس جرم سے بچانے کے لیے سرگرم ہے۔
‘ایس۔جی’ اپنے ملک میں ایک باصلاحیت کھلاڑی تھے۔ انہیں ایک شخص نے فٹبال ایجنٹ بن کر افریقی کلب سے یورپ تک کے سنہری خواب دکھائے۔ نوجوان نے اپنی جمع پونجی لگا کر سفر کیا لیکن وہاں پہنچتے ہی اسے اندازہ ہوا کہ یہ سب ایک انسانی اسمگلنگ گینگ کا دھوکہ تھا۔
"انہوں نے مجھے دھمکایا، مارا پیٹا اور خواتین کو اسمگل کرنے اور ان پر نظر رکھنے پر مجبور کیا،” ایس۔جی نے اپنے کربناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔ "جب میں نے فرار ہونے کی کوشش کی تو انہوں نے بہیمانہ تشدد کیا اور دھمکی دی کہ اگر دوبارہ کوشش کی تو مار ڈالیں گے۔”
آخرکار ہمدرد لوگوں کی مدد سے وہ چھوٹ کر اپنے وطن لوٹ آئے۔ بعدازاں ایک دوست کے مشورے پر دبئی منتقل ہوئے، جہاں ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت ملی۔ یہی وہ موقع تھا جس نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دی۔
کمپنی نے انہیں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ اسپیشلسٹ ڈپلومہ کے لیے نامزد کیا، جو نیشنل کمیٹی برائے انسداد انسانی اسمگلنگ، دبئی پولیس، دبئی جوڈیشل انسٹیٹیوٹ اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔
ایس۔جی نے نہ صرف یہ کورس مکمل کیا بلکہ بارڈر کنٹرول کے موضوع پر تحقیقی مقالہ بھی لکھا۔ اس میں انہوں نے بارڈر افسران کی خصوصی تربیت، اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور عوامی آگاہی مہمات کی سفارش کی۔ انہوں نے متاثرہ افراد کو طبی سہولت، سماجی مدد اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے مؤثر نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
"اس ڈپلومہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں اپنی تلخ یادوں کو علم اور شعور میں ڈھال سکوں،” انہوں نے کہا۔ "آگاہی سب سے بڑا ہتھیار ہے، یہ زندگیاں بچا سکتی ہے۔”
یو اے ای نے حالیہ برسوں میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات مزید سخت کیے ہیں۔ 2023 میں کابینہ نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے متاثرین کے لیے تعلیمی مدد اور محفوظ واپسی جیسی سہولتیں شامل کیں، جبکہ مجرموں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئیں، جن میں کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانہ اور پانچ سال قید شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ پالیسی چار نکات پر مرکوز ہے: روک تھام، مجرموں کی گرفت، متاثرین کا تحفظ اور بین الاقوامی تعاون۔







