
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتی مشنز نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ملک بھر میں یوم آزادی کی تمام تقریبات مؤخر کر دی گئی ہیں۔ یہ اعلان اتوار کو پاکستان کے سفیر فیضل نیاز ترمذی نے کیا۔
سفیر نے قیمتی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفت صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک کڑی آزمائش ہے۔
اب تک پاکستان کے شمالی علاقوں میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 344 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایک علیحدہ حادثے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر امدادی سامان لے جاتے ہوئے خراب موسم کے باعث گر کر تباہ ہوگیا، جس میں دو پائلٹس سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔
اتوار کو ہی یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھی پاکستان میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا: "ہم اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور دعا گو ہیں کہ زخمی افراد جلد صحتیاب ہوں۔”
سفیر ترمذی نے یو اے ای میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اپنے متاثرہ ہم وطنوں کے ساتھ کھڑی ہو، ان کا غم بانٹے اور ہر ممکن مدد فراہم کرے۔
یاد رہے کہ 10 اگست کو دبئی ایکسپو سٹی میں پاکستانی کمیونٹی نے یوم آزادی کی سب سے بڑی تقریب منعقد کی تھی جس میں 60 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے تھے۔ رواں ہفتے دبئی، شارجہ اور دیگر امارات میں مزید تقریبات کی تیاری تھی، تاہم سیلاب متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کے طور پر یہ سب تقریبات مؤخر کر دی گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں اس وقت 17 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو ملک کی سب سے بڑی تارکینِ وطن کمیونٹی میں شمار ہوتے ہیں۔







