متحدہ عرب امارات

یو اے ای سے بھارت جانے والی انڈیگو پروازیں ہفتہ وار تعطل کے بعد معمول پر آنے لگیں

خلیج اردو
ہفتے کے اختتام پر شدید تعطل کے باعث مسافروں کو 10 گھنٹے سے زائد تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اتوار سے یو اے ای اور بھارت کے درمیان انڈیگو کی پروازیں بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ کئی پروازیں وقت پر روانہ اور لینڈ ہوئیں جبکہ کچھ 15 سے 90 منٹ تک تاخیر کا شکار رہیں۔ البتہ چند پروازوں کو تقریباً 10 گھنٹے رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

اتوار کی صبح راس الخیمہ سے حیدرآباد جانے والی انڈیگو پرواز اپنے مقررہ وقت 2:30 بجے روانہ ہوئی، اسی طرح شارجہ سے لکھنؤ جانے والی پرواز بھی 2 بجے وقت پر اڑان بھری۔ دبئی سے چینئی کی پرواز بھی شیڈول کے مطابق آپریٹ ہونا تھی۔

دبئی سے ممبئی جانے والی پرواز میں 15 منٹ جبکہ دہلی سے دبئی آنے والی فلائٹ (6E 1463) میں 17 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ اس کے برعکس دبئی سے کوژیکوڈ جانے والی پرواز 3:20 بجے کی بجائے تقریباً دس گھنٹے بعد 12:44 بجے روانہ ہوئی۔

بھارت بھر میں فلائٹ آپریشنز میں رکاوٹیں جاری رہیں۔ تعطل کے چھٹے روز بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن نے 500 گھریلو پروازیں منسوخ کیں، جو ہفتے کے 700 اور جمعہ کے 1000 سے کم تھیں۔ کمپنی نے اپ ڈیٹ میں بتایا کہ وہ 1650 پروازیں آپریٹ کرنے کی راہ پر ہے، جو ہفتے کے 1500 سے زیادہ ہیں۔ وقت کی پابندی بھی بہتر ہو کر 30 فیصد سے 75 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ایئرلائن نے 15 دسمبر تک بکنگز کے لیے منسوخی اور ری شیڈولنگ پر مکمل فیس معافی کا اعلان کیا ہے۔

ویک اینڈ کی افراتفری

بحران کا آغاز منگل کو اس وقت ہوا جب انڈیگو کی آپریشنز کو بھارت کی ڈی جی سی اے کی جانب سے نئی فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشنز (FDTL) کے نفاذ کے بعد شدید نقصان پہنچا۔ نئے قواعد کے تحت پائلٹس کو ہر ہفتے 48 گھنٹے آرام فراہم کرنا لازم ہے جبکہ رات کے وقت لینڈنگ کی اجازت 6 سے کم کر کے 2 کر دی گئی ہے۔ پائلٹ تھکاوٹ سے متعلق بڑھتی شکایات کے بعد 2024 میں یہ قوانین متعارف کرائے گئے تھے تاکہ ایئرلائنز اضافی عملہ بھرتی کر سکیں۔

جمعے کو بھارت کی وزارت شہری ہوا بازی نے ان نئی پابندیوں کو فوری طور پر مؤخر کر دیا اور کہا کہ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ حکومت نے ایئر ٹکٹوں کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے کرایوں کی حد مقرر کرنے جیسے اضافی اقدامات بھی کیے۔

عوامی غم و غصہ میں اضافہ

گزشتہ ہفتے ہزاروں مسافروں کے پھنس جانے کے بعد عوامی غصہ بڑھتا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بہت سے لوگ شادیوں، جنازوں اور اہم تقریبات سے محروم رہے، جبکہ کئی افراد ملازمت کے مواقع اور زندگی کے بڑے مواقع کھو بیٹھے۔ ایک انڈین خاتون کاروباری شخصیت نے لنکڈ اِن پر شکایت کی کہ ان کے رشتے دار والد کے جنازے میں بھی شرکت نہ کر سکے۔

دوسری جانب بھارتی وزیرِ شہری ہوا بازی نے بتایا کہ ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس بحران کی تحقیقات کرے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی بھی انڈیگو کی اعلیٰ قیادت سے معاملے پر وضاحت طلب کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button