
خلیج اردو
یو اے ای اور ایران کے درمیان تجارت اور تجارتی روابط ایران کی جانب سے فوجی حملے روکنے، بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنے اور مشترکہ سمندری حدود میں امن و استحکام یقینی بنانے کی صورت میں بحال ہوسکتے ہیں۔
انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ابراہیم الظاہری نے کہا ہے کہ یہ ایران کے لیے یو اے ای کے ساتھ اقتصادی روابط بحال کرنے کا ایک ’’عملی اور مکمل طور پر قابلِ عمل‘‘ سفارتی راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اور مستقبل میں کسی بھی معاشی رابطے کی بحالی مرحلہ وار اقدامات سے مشروط ہوگی۔
یو اے ای نے 19 اگست کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ تجارت، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 18 اگست کو یو اے ای کے فضائی دفاع نے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکا۔ وزارت دفاع کے مطابق میزائل بحری جہازوں کی آمدورفت کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے اور دونوں سمندر میں گر گئے۔
ڈاکٹر الظاہری کے مطابق یو اے ای نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ اپنی سمندری حدود اور تجارتی جہاز رانی کو براہ راست لاحق خطرات کے بعد کیا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی
تجارتی معطلی سے قبل آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی تھی۔ 13 اگست کو دو اور 14 اگست کو ایک سمیت کئی اے ڈی این او سی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یو اے ای کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد 18 اے ڈی این او سی جہازوں پر حملے ہوچکے تھے جن میں ایک عملے کا رکن ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
یو اے ای نے ایران سے حملے روکنے، آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنے اور بین الاقوامی بحری راستوں میں آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایران کے لیے یو اے ای کی اہم تجارتی حیثیت
چین کے بعد یو اے ای ایران کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ یو اے ای کے ذریعے آتا ہے۔ ایران سے یو اے ای آنے والی اہم درآمدات میں خوراک اور غذائی مصنوعات بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر الظاہری کے مطابق ایران سے براہ راست کارگو شپنگ مارچ میں معطل ہوئی تھی، تاہم حالات بہتر ہونے پر جون کے آخر میں جبل علی کے ذریعے تجارت جزوی طور پر بحال کردی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل مدت میں مقصد خطے میں اقتصادی انضمام، توانائی کے شعبے میں تعاون اور مشترکہ معاشی ترقی ہے، تاہم مضبوط سفارتی دباؤ اور مشروط مذاکرات کے درمیان توازن ہی خطے میں پائیدار استحکام کا حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔







