متحدہ عرب اماراتٹپس

متحدہ عرب امارات میں عوامی مقامات پر بغیر اجازت بچوں کی تصاویر بنانے کے حوالے سے قوانین کیا کہتے ہیں؟

 

خلیج اردو آن لائن:

موبائل میں فون میں کیمرے کی موجودگی اور ہر ایک شخص کے پاس اسمارٹ فون کی وجہ سے عوامی مقامات پر تصویریں اور ویڈیو بنانا آسان ہوگیا ہے۔

کہییں کوئی سیاح کسی تفریحی مقام کی تصویر بنا رہا ہے تو کہیں کوئی نوجوان لطف اندوز ہونے کے لمحات کو عکس بند کر رہے ہیں۔ غرضیکہ جب آپ گھر سے باہر ہیں تو آپ کے اردگرد ہر وقت کیمرے موجود ہیں۔

کیمرے تک آسان رسائی سے جہاں سہولیات پیدا ہوئی ہیں اس کے ساتھ کچھ مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ آپ کی اجازت کے بغیر انجان لوگوں کا آپ کی تصویر بنایا جانا خاص طور پر بغیر اجازت کے آپ کے بچوں کی تصایر بنانا بلا اجازت آپ کی زاتی زندگی میں مداخلت کے ضمرے میں آتا ہے۔

لہذا اگر آپ اس عمل سے بے چینی محسوس کرتے ہیں اور اسے ناپسند کرتے ہیں تو اس صورتحال میں یوے ای کے قوانین کے تحت آپ کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟ آیئے ذیل میں اس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

متحدہ عرب امارات کے قوانین بلا اجازت کسی دوسرے کی تصاویر لینے کے حوالے سے کیا کہتے ہیں:

متحدہ عرب امارات بلا اجازت کسی کی تصویریں بنانے اور انہیں اپنے پاس محفوظ رکھنے کے حوالے سزاؤں کی پوری وضاحت کرتےہیں۔

یو اے ای کا 1987 کا فیڈرل لاء نمبر 3 اس حوالے سے درج ذیل  وضاحت پیش کرتا ہے:

1987 کے وفاقی قانون نمبر 3 کی دفعہ 378 بلا اجازت دوسروں کی تصاویر لینے والوں کے خلاف کریمنل کاروائی سے متعلق ہے۔

اس قانون کے تحت بلا اجازت کسی دوسرے کی تصاویر بنانے کی سزا قید یا جرمانہ ہے تاہم سزا کی شدت کا انحصار جرم کی شدت اور اس کے متاثرہ شخص پر اثرات پر ہوگا۔

اور بچوں کی تصاویر بنانے کی صورت میں کیس احساس ہوجاتا ہے لہذا سزا سخت ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

آرٹیکل 387 کے مطابق جو کوئی بھی کسی دوسرے کی نجی یا خاندانی زندگی  میں ہونے والی بات چیت کوکسی آلے کی مدد سے ریکارڈ کرتا ہے، آگے بیھجتا ہے۔

کسی شخص کی نجی مقام پر کسی آلے کی مدد سے تصاویر بناتا ہے یا انہیں آگے بھیجتا ہے،

تو ایسے شخص کو وہی سزا دی جائے گی جو کسی کی خاندانی زندگی یا نجی زندگی کے راز خبر یا تصویر کو بپلش کرنے والے کو دی جائے گی۔

ایسے افراد کو زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

فیڈرل کاپی رائٹ لاء: فیڈرل لاء نمبر 7 آف 2002:

2002 کے وفاقی قانون نمبر 7 کی دفعہ 43 ایسے جرائم کے لیے سزا کا تعین کرتی ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی بغیر اجازت کے تصویر بناتا ہے اور پھر اسے اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے۔

کیونکہ جس شخص کی تصویر ہوتی ہے وہی اس کا مالک ہوتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس کاپی رائٹ پر بلا اجازت حق نہیں رکھتا۔

اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید یا جرم کی نوعیت کے حساب جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

فیڈرل سائبر کرائم لاء: فیڈرل لاء نمبر 5 آف 2012 :

2012 کے فیڈرل لاء نمر 5 کے آرٹیکل 21 کسی دوسرے شخص کی بغیر اجازت کے تصویریں بنانے، پرائیویسی کا تقدس پامال کرنے اور تصویروں کی کاپیاں محفوظ کرنے والے شخص پر 6 ماہ قید کی سزا یا 1 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم جرمانے کی سزا عائد کرتا ہے۔

اس میں سوشل میڈیا یا کسی اور ذرائع سے تصاویر پبلش اور پھیلانا بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ سائبر کرائم جان بوجھ کر کسی کو توہین کے لیے تصاویر میں ترمیم کرنے کے جرم میں ڈھائی لاکھ سے 5 لاکھ درہم جرمانے اور 1 سال قید کی سزا تجویز کرتا ہے۔

بچوں کی تصویریں بنانے سے متعلق مخصوص قوانین:

فیڈرل چائلڈ رئٹ لاء یا 2016 کے فیڈرل لاء نمبر 3 کے شق نمبر 5 بچوں کی پرائیویسی یا نجی زندگی کا تقدس کا تسلیم کرتی ہے اور اس قانون میں تجویز کیا گیا ہے کہ بچوں کی پرائیویسی انکے نگہبان کی اجازت سے مشروط ہوگی۔

اور چائلڈ رائٹ لاء کے تحت رضامندی صرف بچوں کے نگہبان کی طرف سے دی جا سکتی ہے۔ اور یہ نگہبان وہ ہوگا جسکی قانون میں وضاحت کی گئی ہے۔ اور قانون کے تحت بچوں کا نگہبان صرف والدین ہو سکتےہیں ناکہ ملازمہ یا دایہ۔

خیال رہے درج بالا قوانین کا بڑوں اور بچوں سب پر مساوی اطلاق ہوتا ہے۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button