
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی سرکاری حکومت ویب سائٹ نے گھریلو ملازمین کے زمرے میں آنے والے 19 پیشوں کی فہرست جاری کردی ہے۔ حکام نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ گھریلو ملازمین کی بھرتی صرف وزارت انسانی وسائل و اماراتی امور سے لائسنس یافتہ ایجنسیوں کے ذریعے کی جائے۔
یو اے ای کے قوانین میں گھریلو ملازمین کے حقوق کے ساتھ ساتھ بھرتی ایجنسیوں اور آجروں کی ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور بعض صورتوں میں قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔
سرکاری فہرست کے مطابق گھریلو ملازمین کے زمرے میں گھریلو ملازمہ، ملاح، سیکیورٹی گارڈ، چرواہا، گھڑ سوار، جانوروں کا تربیت کار، فالکن کی دیکھ بھال کرنے والا، عام ورکر، ہاؤس کیپر، باورچی، نینی یا بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا، زرعی کارکن، مالی، ذاتی ٹرینر یا کوچ، پرائیویٹ ٹیچر، ہوم نرس، پرسنل اسسٹنٹ، نجی زرعی انجینئر اور ذاتی یا فیملی ڈرائیور شامل ہیں۔
قانون کے مطابق گھریلو ملازمین کو ہفتے میں ایک دن تنخواہ سمیت آرام کا حق حاصل ہے۔ اگر آرام کے دن کام لیا جائے تو متبادل چھٹی یا ایک دن کی اجرت کے برابر رقم دینا ہوگی۔
ملازم کو روزانہ کم از کم 12 گھنٹے آرام کا حق حاصل ہے جس میں مسلسل 8 گھنٹے آرام بھی شامل ہونا ضروری ہے۔
گھریلو ملازمین کو سالانہ 30 دن کی بااجرت چھٹی بھی دی جائے گی جبکہ 6 ماہ سے ایک سال تک کام کرنے والے ملازمین کو ہر ماہ دو دن کی چھٹی کا حق حاصل ہوگا۔
قانون کے تحت ہر دو سال میں اپنے وطن آنے اور واپس جانے کے لیے ریٹرن ٹکٹ بھی فراہم کیا جائے گا۔ ملازم کی اجرت مقررہ تاریخ سے 10 دن کے اندر ادا کرنا لازم ہے جبکہ مناسب رہائش اور خوراک کی فراہمی بھی آجر کی ذمہ داری ہے۔
بیماری کی صورت میں سالانہ 30 دن تک چھٹی دی جاسکتی ہے۔ پہلے 15 دن مکمل تنخواہ کے ساتھ جبکہ اگلے 15 دن نصف تنخواہ کے ساتھ ہوں گے۔ ملازم کو اپنا پاسپورٹ اور دیگر ذاتی شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھنے کا حق بھی حاصل ہے۔
بھرتی ایجنسیوں کی ذمہ داریاں
قانون کے مطابق بھرتی ایجنسیوں کو ملازم کو یو اے ای آنے سے پہلے کام کی نوعیت اور تنخواہ سے آگاہ کرنا ہوگا۔ ملازم کی جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ صحت سے متعلق ضروری معلومات بھی حاصل کرنا ہوں گی۔
یو اے ای آنے سے 30 دن سے زیادہ پہلے نہیں بلکہ مقررہ مدت کے اندر ضروری طبی معائنہ بھی کرانا ہوگا۔ ایجنسیوں کو ملازمین کو امارات کے معاشرتی رسم و رواج اور شکایت درج کرانے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔
ایجنسی پر ملازم کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اسے تشدد سے تحفظ فراہم کرنا بھی لازم ہے۔ ملازم کی تنخواہ وزارت کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ادا ہونے کو یقینی بنانا ہوگا۔
اگر ملازم کو وطن واپس بھیجنا پڑے تو بعض حالات میں واپسی کے اخراجات بھی ایجنسی کی ذمہ داری ہوں گے۔ قانون کے تحت بھرتی ایجنسی کسی ملازم سے ملازمت دلانے کے بدلے براہ راست یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے کمیشن یا اخراجات وصول نہیں کرسکتی۔
آجر کی ذمہ داریاں
آجر کے لیے مناسب رہائش، خوراک اور موسم کے مطابق مناسب لباس فراہم کرنا لازم ہے۔ ملازم کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا یا ہیلتھ انشورنس فراہم کرنا بھی آجر کی ذمہ داری ہے۔
آجر کو ملازم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہوگا اور اسے کسی دوسرے شخص کے لیے کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ کام کے دوران حادثے یا پیشہ ورانہ بیماری کی صورت میں قانون کے مطابق معاوضہ دینا بھی لازم ہے۔
ملازم کو اس کی رضامندی کے بغیر اس کے مقررہ کام سے مختلف پیشہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جبکہ ملازم کی موت کی صورت میں اس کے ورثا کو واجب الادا حقوق اور وفات والے ماہ کی تنخواہ ادا کرنا ہوگی۔
گھریلو ملازمین کی ذمہ داریاں
گھریلو ملازم کو ملازمت کے معاہدے میں طے شدہ ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور آجر کی ہدایات کے مطابق کام انجام دینا ہوگا۔
ملازم کو آجر کی جائیداد، کام کے آلات اور اپنی تحویل میں موجود اشیا کی حفاظت کرنا ہوگی۔ کام کی جگہ کی رازداری برقرار رکھنا اور ملازمت کے دوران حاصل ہونے والی نجی معلومات افشا نہ کرنا بھی لازم ہے۔
ملازم کام کے اجازت نامے کے بغیر کسی اور جگہ یا کسی اور صورت میں کام نہیں کرسکتا۔ حادثے یا خطرے کی صورت میں کام کی جگہ پر موجود افراد کی مدد کرنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
خلاف ورزی پر بھاری سزائیں
یو اے ای کے گھریلو ملازمین سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے ہزاروں سے لاکھوں درہم تک ہوسکتے ہیں جبکہ بعض سنگین خلاف ورزیوں پر قید کی سزا بھی مقرر ہے۔
غلط معلومات یا دستاویزات دے کر ملازم کو یو اے ای لانے یا متعلقہ سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر 6 ماہ تک قید اور 20 ہزار سے 1 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
غیر مجاز ملازم کو کام پر رکھنے، ملازم کی بھرتی کے بعد اسے کام فراہم نہ کرنے، ورک پرمٹ کا غلط استعمال کرنے یا 18 سال سے کم عمر شخص کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھریلو ملازم رکھنے پر 50 ہزار سے 2 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
بغیر لائسنس ملازمین کی ثالثی یا عارضی ملازمت کی سرگرمی چلانے اور وزارت کے الیکٹرانک نظام کا غلط استعمال کرنے پر ایک سال تک قید اور 2 لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
قانون کی دیگر خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے اور اگر ایک سے زیادہ ملازمین سے متعلق خلاف ورزی ہو تو جرمانہ ملازمین کی تعداد کے حساب سے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ 1 کروڑ درہم تک پہنچ سکتا ہے۔
بھرتی ایجنسی کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی پر 50 ہزار سے 2 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ ایک سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا دگنی ہوسکتی ہے۔
آجر اور گھریلو ملازم کے درمیان تنازع پیدا ہونے کی صورت میں دونوں میں سے کوئی بھی وزارت انسانی وسائل و اماراتی امور میں شکایت درج کراسکتا ہے۔ وزارت پہلے معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے گی اور حل نہ ہونے کی صورت میں کیس متعلقہ عدالت کو بھیجا جاسکتا ہے۔







