
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات کے ایک شہری محمد الہاشمی نے اپنی رہائش گاہ کے اندر قائم فارم کو پورے محلے کے لیے ایک عوامی سبزی باغ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں سے پڑوسی، راہگیر اور گھریلو ملازمین بلا جھجھک تازہ سبزیاں اور جڑی بوٹیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
محمد الہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنے گھر کے لیے نہیں بلکہ پورے محلے کے لیے ایک مشترکہ باغ تیار کرنا ہے۔ ان کے باغ میں تازہ سبزیاں، پتوں والی فصلیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں، جنہیں لوگ خود آ کر توڑ لیتے ہیں۔
خاندانی ورثہ اور شوق
محمد الہاشمی کا زراعت سے لگاؤ ان کے والد سے جڑا ہے، جو کاشتکاری کے شوقین تھے اور اس وقت انتقال کر گئے جب محمد صرف آٹھ برس کے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2000 میں نئے گھر میں منتقل ہونے کے بعد خالی جگہ پر سب سے پہلے گھاس اور پھر سبزیاں اگانا شروع کیں۔
“میں نے ارُوگولا، واٹرکریس، مولی، چقندر اور لیٹَس لگائی۔ انہیں بڑھتے دیکھنا میرے لیے حیرت اور خوشی کا باعث تھا۔”
گرین ہاؤس اور جدید طریقے
2000 ہی میں محمد الہاشمی نے ایک مقامی کسان کی رہنمائی سے پلاسٹک گرین ہاؤس تیار کیا، جس میں درجۂ حرارت اور نمی کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرین ہاؤس میں درجۂ حرارت 20 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے، جس سے سبزیاں بہتر اور تیزی سے اگتی ہیں۔
انہوں نے زیرِ زمین پانی کا ٹینک، ہوا کی گردش کے لیے پنکھے اور سرخ مٹی کے ساتھ قدرتی چکنی مٹی استعمال کی تاکہ زمین کی زرخیزی اور پانی کی نمی برقرار رہے۔
قدرتی کھاد اور بیجوں پر زور
محمد الہاشمی صرف گائے اور مرغی کی قدرتی کھاد استعمال کرتے ہیں، جسے حرارت دے کر محفوظ بنایا جاتا ہے، جبکہ کیمیائی کھاد سے مکمل اجتناب کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بازار میں دستیاب پنیری کے بجائے بیج خود اگانا زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ بہت سی پنیریاں جلد کمزور ہو جاتی ہیں۔
محلے کا مشترکہ سبزی خانہ
آج ان کا باغ ایک کمیونٹی پینٹری کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں سے لوگ دھنیا، اجوائن، تلسی، پارسلے اور مرچیں خود کاٹ کر لے جاتے ہیں۔
“پڑوسی کھانا پکانے کے لیے جتنی ضرورت ہو، لے جاتے ہیں،” محمد الہاشمی نے بتایا۔
وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کاشتکاری سے متعلق ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہیں اور ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہیں، جن میں اسکولوں اور کنڈرگارٹن کے طلبہ بھی شرکت کرتے ہیں۔
چیلنجز اور مستقبل کا خواب
محمد الہاشمی نے گھریلو کاشتکاروں کو درپیش مسائل جیسے کیڑے، سخت موسم اور ناقص بیجوں کی نشاندہی بھی کی۔ ان کے مطابق درست اور معیاری بیج ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے:
“میرا خواب ہے کہ یہ باغ پورے محلے کے لیے ہو۔ اگر ہم سب اگانا اور بانٹنا سیکھ لیں تو ایک سرسبز اور صحت مند ماحول بنا سکتے ہیں۔”
یہ کہانی نہ صرف سخاوت بلکہ پائیدار زراعت اور کمیونٹی اسپرٹ کی ایک خوبصورت مثال ہے۔







