خلیج اردو
22 جنوری 2021
دبئی :روزگار انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے حصول کیلئے ہر شخص لاکھ جتن کرتا ہے کیونکہ دنیا میں آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے باصلاحیت افراد زیادہ اور مواقع کم ہیں ۔ایسے میں بیروزگاری کافی زیادہ ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگوں کو نوکری کا لالچ دے کر بے وقوف بنانا ایک گھناؤنا کاروبار بن گیا ہے۔
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا توڑ نکال لیا گیا ہے۔ ایک ایسی اپلیکیشن تیار کی گئی ہے جس سے متحدہ عرب امارات سے باہر رہنے والے افراد کیلئے یہ آسان ہوگا کہ وہ جانچ سکے کہ دی جانے والی نوکری اصلی ہے یا دھوکہ۔
جمعرات کو متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی شہریوں کیلئے پراوسی بھارتیہ سہیٹا مرکز ویلفیئر سنٹر کے ذریعہ تیار کردہ پی بی ایس اپلیکیشن کو جمعرات کے روز ہندوستان کے وزیر برائے امور خارجہ اور پارلیمانی امور وی مرالیدارھن نے لانچ کیا ہے۔ اپلیکیشن کا مقصد اس مرکز کو ضرورت مند ہندوستانی کارکنوں کیلئےمزید قابل رسائی بنانا ہے۔ یہ پانچ زبانوں ہندی ، ملیالم ، تمل ، ٹیلیگو اور انگریزی میں دستیاب ہے۔
دبئی میں ہندوستان کے قونصل جنرل ڈاکٹر امان پوری نے کا کہنا ہے کہ اپلیکیشن شروع کرنے کے تین بنیادی مقاصدہیں جن میں لوگوں کو رابطے کی ایک ونڈو فراہم کرنا ، متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی برادری کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہ اپلیکیشن متحدہ عرب امارات سے باہر کے صارفین کی ملازمت کی پیش کشوں کی تصدیق کرنے میں ان کی مدد کرے گی جو بظاہر امارات میں مقیم کمپنیوں کی طرف سے آرہی ہیں۔
متعدد افراد خلیجی ممالک سے اکثر ’جعلی‘ ملازمت کی پیش کشوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اس خدمت کا مقصد صارف کی دلچسپی کا تحفظ کرنا اور محض حادثات سے بچنا ہے۔
ڈاکٹر پوری نے بتایا کہ پرواسی بھارتیہ سہیٹا مرکز (پی بی ایس کے) کو ایک دن میں اوسط کے حساب سے 100 کالز اور 25 ای میل موصول ہوتی ہیں۔ یہ مرکز جسے گذشتہ سال یکم نومبر کو جے ایل ٹی میں واقع اپنے دفتر سے بر دبئی میں کونسلز جنرل آف انڈیا (سی جی آئی) کے احاطے میں منتقل کیا گیا تھا بھارتی مزدوروں کی رہنمائی کا قابل بھروسہ اور قابل اعتبار مرکز ہے۔
Source : Khaleej Times







