متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدر نے 2026 کو ’’خاندان کا سال‘‘ قرار دے دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جمعرات، 6 نومبر کو اعلان کیا ہے کہ سال 2026 کو ’’خاندان کا سال‘‘ قرار دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد اماراتی خاندانوں کی ترقی کے قومی ایجنڈے کے اہداف کو فروغ دینا اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں و رہائشیوں میں خاندانی شعور اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ اعلان ’’نیشنل فیملی گروتھ ایجنڈا 2031‘‘ کی تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں وفاقی و مقامی حکام سمیت اعلیٰ سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب حکومت کے سالانہ اجلاسوں کا حصہ تھی جو ابوظہبی میں منعقد ہوئی۔

اس اقدام کا مرکزی موضوع خاندانی اتحاد، باہمی رشتوں کی مضبوطی اور ان قدروں کو اجاگر کرنا ہے جو کسی بھی مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ صدر شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ اماراتی خاندان کی ترقی ہمارے وجود، شناخت، قومی سلامتی اور قوم کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، اور اس کی مضبوطی ملک کے استحکام و خوشحالی کی ضمانت ہے۔

شیخ محمد بن زاید نے بانیِ مملکت شیخ زاید بن سلطان النہیان کا قول دہرایا کہ ’’خاندان کسی بھی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے‘‘۔

اس موقع پر ایک قومی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو وفاقی اور مقامی اداروں پر مشتمل ہوگی۔ یہ فورس تین اہم پہلوؤں پر کام کرے گی:
پالیسی اور پروگرامز، سماجی و رویہ جاتی پہلو، اور تولیدی صحت۔
ان اقدامات کے ذریعے خاندانوں کی نشوونما سے متعلق پالیسیوں کا جائزہ، رویہ جاتی عوامل کی تحقیق، اور تولیدی صحت کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

صدر نے واضح کیا کہ وزارتِ خاندانی امور کو اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ خاندانی اقدار، قومی شناخت، تعلیم اور روایات کو مضبوط بنانے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اماراتی خاندان ہماری ثقافت، اقدار اور شناخت کے تحفظ کے لیے پہلی صفِ دفاع ہے۔

شیخ محمد بن زاید نے زور دیا کہ خاندانی ترقی صرف وزارتِ خاندانی امور کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے جس میں حکومت، نجی شعبہ اور معاشرہ سب برابر کے شریک ہیں۔

’’سالِ خاندان‘‘ کے دوران مختلف سرکاری ادارے — بشمول صحت، تعلیم، رہائش، معیشت اور میڈیا — خاندانی استحکام سے متعلق منصوبوں میں کردار ادا کریں گے تاکہ خاندان کی اہمیت کو قومی مکالمے اور سماجی شعور کا مرکزی حصہ بنایا جا سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button