متحدہ عرب امارات

فلائی دبئی کاک پٹ حملے سے نمٹنے میں متحدہ عرب امارات نے فوری بیان کے بجائے مصدقہ معلومات کو ترجیح دی، ماہرین

خلیج اردو
ماہرین کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے کاک پٹ میں حملے کے واقعے سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی میں تیز رفتاری کے بجائے درست معلومات اور اداروں کی ساکھ کو ترجیح دی گئی۔ 30 ستمبر کو دوران پرواز معاون پائلٹ نے کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور غیر مصدقہ اطلاعات پر قیاس آرائی سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

ایگزیکٹو اتھارٹی کے سربراہ کیون عبدالرحمان نے کہا کہ بحران کے دوران ابتدائی بیان میں ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا اہم ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارہ صورت حال سے آگاہ ہے اور معاملے کو سنبھال رہا ہے۔ ان کے مطابق نامکمل معلومات کو قیاس آرائیوں سے پُر کرنے کے بجائے تصدیق شدہ حقائق سامنے لانے چاہییں۔

جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے ابتدائی بیان میں تصدیق کی تھی کہ طیارے کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا تھا، عملے کے ارکان زخمی ہوئے تھے اور واقعے کی تحقیقات جاری تھیں۔ اتھارٹی نے اس وقت گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ فلائی دبئی کے چیف ایگزیکٹو غیث الغیث نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے مشکل صورت حال کے دوران معاونت کرنے والے کپتان اور مسافروں کا شکریہ ادا کیا۔

اقوام متحدہ کے سابق ڈائریکٹر برائے مواصلات اور بحران سے متعلق ابلاغ کے ماہر ہروے ورہوسل نے کہا کہ طیارے کی لینڈنگ کے تقریباً 45 منٹ بعد ایئرلائن کا ابتدائی بیان جاری کرنا ایک سنگین واقعے کے تناظر میں مناسب وقت تھا۔ ان کے مطابق بیان میں طیارے کی بحفاظت لینڈنگ اور مسافروں کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی گئی، جبکہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران کے دوران فوری ردعمل اور درست معلومات دو الگ مقاصد پورے کرتے ہیں۔ کیون عبدالرحمان کے مطابق رفتار ادارے کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے، جبکہ درستگی اس کی ساکھ محفوظ رکھتی ہے۔ اگر جلدی میں جاری کیا گیا بیان بعد میں واپس لینا یا درست کرنا پڑے تو اس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

واقعے کے بعد معلومات بتدریج سامنے لانے کی حکمت عملی واضح ہوئی۔ 3 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے بتایا کہ تفتیش کاروں کے مطابق معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

ہروے ورہوسل کے مطابق معلومات جاری کرنے میں احتیاط ضروری ہے، تاہم طویل خاموشی سے معلومات کا خلا پیدا ہو سکتا ہے، جسے غیر مصدقہ دعوے پُر کرنے لگتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس معاملے میں تحقیقات کی شفافیت اور عوام کو جواب دہ ہونے کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔

کیون عبدالرحمان نے کہا کہ اداروں کے لیے مؤثر ابلاغ کا مطلب یہ نہیں کہ تمام معلومات ایک ہی وقت میں جاری کر دی جائیں۔ بحران کے دوران میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا پوسٹس، لیکس اور مختلف دعوے تیزی سے سامنے آتے ہیں، لیکن ادارے کو ہر دعوے کا فوری جواب دینے کے بجائے ایسی معلومات فراہم کرنی چاہییں جن پر وقت گزرنے کے ساتھ بھی اعتماد برقرار رہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معلومات ایک ہی دن میں جاری کرنے کے بجائے ہر مرحلے پر تصدیق کے بعد سامنے لائی گئیں۔

گزشتہ ہفتے ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے مزید بتایا کہ 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارہ ہائی جیک کرنے اور خودکش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button