
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی وفاقی حکومت نے دبئی اور شارجہ کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسئلے کے پیش نظر گاڑیوں کی ملکیت اور رجسٹریشن سے متعلق قوانین میں سختی کی تجویز دی ہے۔ وزیر توانائی و بنیادی ڈھانچہ سہیل المزروعی کے مطابق دبئی میں گاڑیوں کی تعداد میں 8 فیصد سالانہ اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ عالمی شرح 2 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
وزیر نے اس اضافے کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسیوں اور قوانین کی اشد ضرورت ہے تاکہ ٹریفک کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق وزارت نے اس معاملے کو متحدہ عرب امارات کی سالانہ حکومتی میٹنگز میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ مقامی حکام کے ساتھ مربوط کوششیں کی جا سکیں۔
سہیل المزروعی نے بتایا کہ وزارت ایک مشترکہ ٹیم کی قیادت کر رہی ہے، جس میں وزارت داخلہ اور مقامی حکومتوں کے نمائندے شامل ہیں، جو اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق وزارت نے متعدد حل کابینہ کو پیش کیے ہیں اور ایک جامع منصوبہ ترتیب دینے کے لیے مقامی اداروں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
تجویز کردہ حلوں میں دبئی کو دیگر امارات سے ملانے والے اہم روڈ کاریڈورز کی بہتری، نئی سڑکوں کی تعمیر، پبلک ٹرانسپورٹ کا بہتر انضمام، اور نئی ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایف این سی کے رکن عدنان الحمادی نے دوبارہ سوال اٹھایا کہ دبئی اور شارجہ کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسئلے پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ الحمادی نے یاد دلایا کہ وزارت نے ایک سال پہلے بھی مطالعہ مکمل ہونے اور 2024 کے دوسرے نصف میں منصوبوں کے آغاز کا وعدہ کیا تھا، مگر صورتحال بدستور سنگین ہے۔
الحمادی نے کہا کہ صرف دبئی ہی نہیں بلکہ شارجہ، عجمان اور ام القیوین میں بھی گاڑیوں کی تعداد میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ 1.2 ملین گاڑیاں دبئی میں داخل ہو رہی ہیں جبکہ ڈیڑھ سال قبل یہ تعداد 850,000 تھی۔ مزید یہ کہ دبئی میں روزانہ 4,000 نئے ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ملازم دبئی اور شارجہ کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر 460 گھنٹے سڑک پر گزار رہا ہے، جو 60 کام کے دنوں کے برابر ہے۔ بعض سرکاری ملازمین نماز فجر کے بعد دفاتر روانہ ہوتے ہیں اور رات 8 بجے کے بعد گھر واپس آتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ افراد نے دفاتر کے قریب عارضی رہائش اختیار کر لی ہے۔
ان کے مطابق "یہ مسئلہ دائمی اور تکلیف دہ بن چکا ہے۔ ہم بارہا اس پر بات کر چکے ہیں مگر اب تک کوئی تسلی بخش حل سامنے نہیں آیا۔ ہم عوام کی آواز حکومت تک پہنچا رہے ہیں اور فوری اقدامات کے منتظر ہیں






