دُبئی: دُنیا بھر میں قطر کی سعودی عرب، امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مصالحت اور دوبارہ خوشگوار تعلقات قائم ہونے کو بہت خوشی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر دونوں ممالک نے کئی سال کے بعد اپنی بند کی گئی سرحدیں کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امارات کی سرکاری ایجنسی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کل 9جنوری بروز ہفتہ امارات کے قطر کے ساتھ سفری رابطے بحال کر دیئے جائیں گے۔ کل سے قطر کے ساتھ زمینی، سمندری اور فضائی سرحدیں کھول دی جائیں گی۔ جس کے بعد دونوں جانب سے لوگوں کی سرحدی اور سمندری راستے سے آمد و رفت شروع ہو جائے گی اورپروازوں کا سلسلہ بھی بحال ہو جائے گا۔
وام کے مطابق سفری رابطے بحال کرنے کایہ اقدام قطر کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد اُٹھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں سعودیہ ، امارات، بحرین اورمصر نے قطر کے ساتھ اپنے چار سالہ اختلافات اور بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد قطری فرمانروا نے بھی سعودی شہر العلا میں ہونے والی خلیجی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی، اس موقع پر ان کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پُرتپاک استقبال کیا۔ 2017ء میں سعودیہ، امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم امریکی اور کویتی حکومت کی کوششوں سے العلا کانفرنس سے قبل تمام اختلافات بھُلا کر قطر اور ان خلیجی ممالک نے دوبارہ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ اماراتی وزیر خارجہ ڈاکٹر انور گرگش نے کل امکان ظاہر کیا تھا کہ قطر کے ساتھ تجارتی اور سفری تعلقات اسی ہفتے بحال کر دیئے جائیں گے جس کے بعد دونوں ممالک میں مقیم افراد سفر بھی کر سکیں گے اور تجارتی اشیاء کا تبادلہ بھی ممکن ہونے سے معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔
ڈاکٹر گرگش نے ایک آن لائن پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ قطر اور امارات جلد ایک دوسرے کے ممالک میں دوبارہ سفارت خانے بھی قائم کر دیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا اگرچہ امارات اور قطر کے درمیان کچھ معاملات پرماضی میں اختلاف پائے جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے اعتماد کی فضا قائم ہونے میں کچھ وقت درکار ہو گا، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات میں پیش رفت کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور فضائی و سمندری سفر بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
اگلے چند روز میں دونوں ممالک کے درمیان سفر کا آغاز ہو جائے گا اور تجارتی سامان کی آمد و رفت بھی شروع ہو جائے گی۔قطر کے ساتھ دیگر ممالک کے بھی اپنے اپنے اختلافات ہیں۔ جن کے حل کے لیے خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں۔ کچھ اختلافات معمولی نوعیت کے ہیں، جو جلد حل ہونے کی اُمید ہے،تاہم کچھ تنازعات کو حل کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔تمام خلیجی ممالک کو ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترا م کرتے ہوئے شفاف انداز سے آگے بڑھنا ہو گا۔ اماراتی حکومت بھی قطر کے ساتھ ماضی کے اختلافات کو بھُلا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ صلح جوئی سے معاملات حل کرنا ہی اماراتی پالیسی کا اہم اصول ہے۔







