متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سنِ بلوغت 18 سال مقرر، نیا وفاقی فرمانی قانون نافذ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سول لین دین سے متعلق نیا وفاقی فرمانی قانون جاری کرتے ہوئے سنِ بلوغت 21 قمری سال سے کم کرکے 18 گریگورین سال مقرر کر دی ہے، جس کے بعد 18 سال کی عمر کو مکمل قانونی اہلیت کے لیے حتمی عمر قرار دے دیا گیا ہے۔ نئے قانون کا مقصد ملک میں سول قوانین کے لیے ایک جامع، مربوط اور جدید قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ قانون قانونی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی قومی قانون سازی کی حکمتِ عملی کا اہم سنگِ میل ہے، جس میں قانونی دفعات کو سادہ، واضح اور یکساں بنانے کے ساتھ حالیہ خصوصی قوانین سے تکرار ختم کی گئی ہے۔

قانون کے تحت جہاں کوئی واضح قانونی شق موجود نہ ہو وہاں عدالتوں کو اسلامی شریعت کے اصولوں سے رہنمائی لینے کا اختیار دیا گیا ہے، اور جج کسی ایک فقہی مسلک کا پابند ہوئے بغیر انصاف اور عوامی مفاد کے مطابق فیصلہ کر سکیں گے۔ اس دائرہ کار میں لاوارث افراد، لاپتا اشخاص اور غائب افراد سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

نئے قانون میں جائیداد اور مالی حقوق سے متعلق کئی اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن میں انتفاعی تعمیراتی حقوق کے معاہدوں کی رجسٹریشن، غیر ملکی افراد کے بلاوارث اثاثوں کو فلاحی وقف قرار دینا، اور ناجائز قبضے کے خلاف پیشگی تحفظاتی اقدامات شامل ہیں۔

قانون آزاد مرضی کے تحفظ اور قانونی اہلیت کو مزید مضبوط بناتا ہے، تاکہ افراد اپنے قانونی اور مالی معاملات خود انجام دے سکیں اور استحصال سے محفوظ رہیں۔ اسی تناظر میں سنِ بلوغت میں کمی کو دیگر قوانین جیسے لیبر اور جووینائل قوانین کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔

اسی قانون کے تحت نابالغ افراد کے لیے اپنے اثاثوں کے انتظام کی عدالتی اجازت کی عمر بھی 18 ہجری سال سے کم کرکے 15 گریگورین سال کر دی گئی ہے، تاکہ نوجوانوں کی کاروباری سرگرمیوں اور معاشی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔

نئے قانون میں معاہدوں سے قبل مذاکرات، معلومات کی فراہمی، فریم ورک معاہدوں، فروخت کے قوانین، بیمہ، تکافل، خون بہا کے ساتھ اضافی ہرجانے، متنازع حقوق کی فروخت، کارپوریٹ اور نان پرافٹ کمپنیوں، ملازمت اور انشورنس سے متعلق دفعات کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button