متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ری ہیبلیٹیشن سینٹر کا نوجوانوں کو ’لیگل ہائی‘ منشیات سے خبردار کرنے کا انتباہ

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے نیشنل ری ہیبلیٹیشن سینٹر (این آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ این آر سی کے سی ای او یوسف الثیب الکتبی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ اب نئی قسم کی اشیا استعمال ہو رہی ہیں جنہیں آن لائن ’’محفوظ‘‘ یا ’’لیگل ہائی‘‘ کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اشیا نئی سائیکو ایکٹو سبسٹنسز (این پی ایس) کہلاتی ہیں، جو خطرناک کیمیکلز پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان کے طبی فوائد نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ اشیا ذہنی عوارض، مرگی کے دورے، پرتشدد رویے اور انحصار جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کی آن لائن دستیابی اور قانونی حیثیت کا غلط تاثر نوجوانوں کو ان کے نقصانات سے بے خبر رکھتا ہے۔

سی ای او یوسف الثیب نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ والدین، تعلیمی ادارے اور پالیسی ساز اب زیادہ متحرک ہیں اور بچاؤ پر توجہ دے رہے ہیں۔ ابتدائی اقدامات، آگاہی مہمات اور خاندانی تعاون نوجوانوں کو بہتر اور محفوظ فیصلے کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

این آر سی کے مطابق نوجوان اور نوعمر افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ شناخت بنانے اور فیصلے کرنے کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔ اس دوران خاندانی تعاون اور رہنمائی انہیں غلط فیصلوں سے بچا سکتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی حکمت عملی مقامی ثقافت اور خاندانی اقدار کے مطابق ڈھالی گئی ہے تاکہ بحالی کے عمل میں خاندان اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

این آر سی نے 2024 میں اسکولوں، اداروں اور کمیونٹیز میں 107 سے زائد آگاہی سرگرمیاں کیں جبکہ 2025 میں 60 سے زیادہ اساتذہ کو اس بارے میں تربیت دی گئی کہ وہ منشیات کے ابتدائی اشاروں کو پہچان سکیں۔

یوسف الثیب نے بتایا کہ اگست 2025 میں نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے جو بچاؤ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صحت عامہ کی حکمت عملیوں کو یکجا کر رہا ہے۔ اس سے زیادہ مربوط اور مؤثر اقدامات ممکن ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button