متحدہ عرب امارات

UAE کی نوجوان عرب خواتین سائنس دانوں کی شاندار کامیابیاں، روبوٹکس سے جینوم تک تحقیق میں نمایاں کردار

خلیج اُردو
متحدہ عرب امارات میں انجینئرنگ، بایومیڈیکل سائنس اور جینومکس کے شعبوں میں عرب خواتین غیر معمولی کارنامے سر انجام دے رہی ہیں۔ لوریال یونیسکو "ویمن اِن سائنس” مڈل ایسٹ ریجنل ینگ ٹیلنٹ پروگرام میں اس سال خلیجی ممالک کی بارہ محقق خواتین کو اُن کی شاندار سائنسی کاوشوں پر اعزازات دیے گئے، جس کی میزبانی خلیفہ یونیورسٹی نے کی۔ اس پروگرام کا مقصد خطے کی نوجوان خواتین سائنس دانوں کی جدت، تحقیق اور مستقبل ساز منصوبوں کو اجاگر کرنا ہے۔

اماراتی میکینکل انجینئر عائشہ علی سمرہ الشیحی نے بایو اِن اسپائرڈ روبوٹک آرم تیار کیا ہے جو ہوائی جہازوں کی مرمت اور انجنوں کے اندرونی معائنے کے طریقہ کار کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عائشہ نے بتایا کہ بچپن میں اپنے والد کی ورکشاپ میں چیزیں بنتے دیکھ کر ان میں انجینئرنگ کا شوق پیدا ہوا اور اسی دلچسپی نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ ان کا روبوٹک آرم سمندری مخلوقات کی لچک دار حرکات سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو انجن کے تنگ حصوں میں داخل ہو کر بغیر انجن کھولے معائنہ ممکن بناتا ہے۔ ان کے مطابق اس جدت سے ایوی ایشن انڈسٹری میں وقت اور لاگت دونوں بچیں گے اور حفاظت میں اضافہ ہوگا۔

ادھر ابوظبی میں مقیم مصری محقق نادین حسنی السعید ایپی جینیٹکس کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ نادین نے بتایا کہ ان کی دلچسپی جینز کی اُس دنیا میں ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن انسانی صحت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ اسکول کے دنوں میں ایک استاد کی رہنمائی سے ان کا رجحان سیاسیات سے بدل کر حیاتیات کی طرف ہوگیا۔ نادین نے چار بار کوشش کے بعد ’کاؤسٹ‘ میں پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کیا اور اسے اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ناکامی کامیابی کے راستے کا ایک حصہ ہے۔

ان کی تحقیق MEG3 نامی ایک مالیکیول پر مرکوز ہے جو جسم کے اندر مخصوص جینز کو بند یا فعال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً موٹاپا، ذیابیطس، گٹھیا اور دیگر علاقائی امراض میں۔ یہ تحقیق مستقبل میں آر این اے پر مبنی ایسی تھراپیز کی بنیاد بن سکتی ہے جو بیماری کی جڑ کو ہدف بنا کر علاج کو زیادہ مؤثر اور دیرپا بنائیں گی۔ نادین نے حال ہی میں نیوکلیک ایسڈز ریسرچ میں شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ MEG3 کس طرح نیوکلئیر ایکٹِن کے ساتھ مل کر میٹابولک جینز کو خاموش کرتا ہے، جو ذیابیطس، الزائمر اور اوسٹیو آرتھرائٹس جیسے امراض کے علاج کے نئے امکانات ظاہر کرتا ہے۔

پروگرام کے تحت جن بارہ تحقیقی منصوبوں کو اعزاز دیا گیا، ان میں ایروسپیس روبوٹکس، فوڈ سکیورٹی، ایپی جینیٹکس، پرسنیلائزڈ میڈیسن، مائیکرو بایوم سائنس، میٹابولک ہیلتھ، سی ویڈ سے متعلق موسمیاتی تحقیق، کوانٹم ڈاٹ نینو ٹیکنالوجی، ذیابیطس سے متعلق دل کی پیچیدگیاں، یو وی رمن پر مبنی فورینزک ٹیسٹنگ، اور سانس کی بیماریوں پر تحقیق شامل ہے۔

UAE: Robotic arms to genome mapping, meet Arab women leading future of STEM

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button