عالمی خبریں

راس الخیمہ کا بڑا قدم: سقر 2.0 منصوبہ، خطے کا گہرا ترین پروجیکٹ کارگو پورٹ

خلیج اردو

راس الخیمہ نے اپنی بندرگاہی صلاحیتوں کو عالمی معیار تک لے جانے کے لیے سقر 2.0 کا تاریخی منصوبہ متعارف کر دیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا سب سے بڑا اور گہرا پروجیکٹ کارگو پورٹ ہوگا۔ آر اے کے پورٹس کے اس توسیعی منصوبے کا مقصد مائع اشیاء، پروجیکٹ کارگو، بریک بلک، شپ ریپیر اور شپ ری سائیکلنگ جیسی صنعتوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔

آر اے کے پورٹس اس وقت چار بندرگاہوں کا متحرک نیٹ ورک ہے، جس کا سقر پورٹ سالانہ 6 کروڑ 50 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کرتا ہے اور کیپ سائز بحری جہازوں کو بیک وقت لنگر انداز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سقر 2.0 منصوبہ راس الخیمہ کو خطے کا اگلی نسل کا لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں 2027 تک 6 سے 10 نئے برتھ شامل کیے جائیں گے، جس سے مجموعی برتھ کی تعداد 72 تک پہنچ جائے گی۔ اس توسیع سے عالمی مارکیٹوں کی ضرورت کے مطابق گہرے ڈرافٹ اور مربوط صنعتی ڈھانچے کی فراہمی ممکن ہو گی۔

توسیعی منصوبے کی خصوصیات میں مائع اشیاء، گیس اور پیٹروکیمیکل کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے اسٹریٹجک ہب، جدید پروجیکٹ کارگو اور ڈیپ واٹر ملٹی پرپز پورٹ، 70 سے زائد آپریشنل برتھ اور تیز رفتار بحری کارگو ہینڈلنگ شامل ہیں۔ پورٹ میں 35,000 میٹر ٹن ہیوی لفٹ، 15 ٹن فی مربع میٹر کی کوئسائیڈ صلاحیت، 14 میٹر تک گہرے ڈرافٹ اور برتھ کے ساتھ متعدد اسمبلی زونز بھی شامل ہوں گے۔

فری زون اور پورٹ کو 50 میٹر چوڑی کارگو کوریڈور کے ذریعے براہ راست جوڑا گیا ہے تاکہ بھاری مشینری اور بڑی ساختوں کی آسان نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مائع کارگو کے لیے 24 میٹر تک گہرے برتھ اور سالانہ 10 کروڑ ٹن کی صلاحیت رکھی گئی ہے، جبکہ تمام مائع کارگو پلاٹ برتھ سے 5 کلومیٹر کے اندر ہوں گے۔

سقر 2.0 میں 60 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل جدید فری زون بھی شامل ہے، جو ہیوی فیبرکیشن، پری اسیمبلی یارڈز، آف شور و آن شور لاجسٹکس، بڑے گوداموں، صنعتی کلسٹرز، 100 فیصد ملکی ملکیت، ٹرانس شپمنٹ پر کسٹم فری ڈیوٹی اور 25 سال سے زائد لیز کی سہولت فراہم کرے گا۔

آر اے کے پورٹس پہلے ہی بریک بلک، پروجیکٹ کارگو، بلک ٹرمینلز، کنٹینر ٹرمینلز، شپ ریپیر، یاٹ مینوفیکچرنگ، قریبی گوداموں اور میرین سروسز کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

منصوبے کے تحت آر اے کے پورٹس نے جیانہوا ہولڈنگز گروپ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کے ذریعے راس الخیمہ میری ٹائم سٹی فری زون میں علاقائی سطح پر پہلا پی ایچ سی پائلز فیکٹری قائم کی جائے گی۔ 12 کروڑ درہم مالیت کے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 5 لاکھ 40 ہزار مربع فٹ رقبہ شامل ہے اور 500 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

فیکٹری خلیجی اور ایشیائی منڈیوں کے لیے پی ایچ سی پائلز تیار کرے گی، جبکہ سقر 2.0 کی گہری بندرگاہیں اور مربوط لاجسٹکس اسے عالمی برآمدی مرکز بنانے میں مدد دیں گی۔ توقع ہے کہ منصوبے سے سالانہ بندرگاہی آمدنی 2 کروڑ درہم سے تجاوز کر جائے گی، جس سے راس الخیمہ کی صنعتی برتری مزید مضبوط ہوگی۔

یہ توسیعی منصوبہ راس الخیمہ کے اقتصادی تنوع اور صنعتی ترقی کے وِژن کے مطابق ہے، جو اسے تعمیراتی مواد، ہیوی مینوفیکچرنگ اور پائیدار انفراسٹرکچر کے شعبوں میں خطے کا اہم مرکز بنا رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button