متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: 13 ہزار درہم کے اسکول ٹرپس؟ مہنگے غیرملکی دوروں پر والدین میں اختلاف، اساتذہ کا مثبت مؤقف

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں تعلیمی سال کے اختتام کے ساتھ ہی مختلف اسکولوں نے 2025-26 کے لیے غیرملکی اسکول ٹرپس کا شیڈول دینا شروع کر دیا ہے، جن کی لاگت بعض اوقات 13 ہزار درہم تک جا پہنچتی ہے، جس پر والدین میں تقسیم نظر آ رہی ہے۔

کئی اسکولوں نے والدین کو سرکلرز بھیجنے اور بریفنگ سیشنز کا آغاز کر دیا ہے، حتیٰ کہ کچھ ادارے مہینوں پہلے سے ڈپازٹ لینے کی تیاری میں ہیں۔ اگرچہ کچھ والدین ان ٹرپس کو بچوں کے لیے بین الاقوامی تجربے کا موقع سمجھتے ہیں، لیکن دیگر اس کے اخراجات اور ناانصافی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

اعتراضات اور والدین کی تشویش
دبئی میں مقیم امریکی والدہ نٹالیا میرینڈا نے کہا، "امریکہ میں عام طور پر بچے 16 سال سے کم عمر میں بیرونِ ملک اسکول ٹرپس پر نہیں جاتے۔ یہاں پہلے ہی اسکول فیسز بہت زیادہ ہیں، اوپر سے اضافی سرگرمیوں، لوکل ٹرپس، کاسٹیوم ڈیز اور اب مہنگے بیرونِ ملک دورے؟”

انہوں نے peer pressure کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ "جب بچے اسکول میں ان ٹرپس کا تذکرہ کرتے ہیں تو والدین کو گھر آ کر سمجھانا پڑتا ہے کہ شرکت نہ کرنا بھی ٹھیک ہے۔ ہر خاندان کی اپنی حیثیت ہوتی ہے۔ ہم تو سوئٹزرلینڈ میں اسکیئنگ یا سری لنکا مشن ٹرپ کے بجائے کیرالہ جانا اور مقامی خدمت کو ترجیح دیں گے۔”

نٹالیا نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ یہاں فنڈ ریزنگ کا کوئی رجحان نہیں، جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ "وہاں بچے bake sales اور car washes سے پیسے جمع کرتے ہیں، جو بجٹ سازی اور پیسے کی قدر سیکھنے کا اہم موقع ہوتا ہے۔”

تعلیمی اور تربیتی فوائد

دوسری جانب، فرانسیسی والدہ کرسٹین لاتے نے اپنے مثبت تجربے کا ذکر کیا۔ ان کی بیٹی ڈاریا گزشتہ سال جاپان کے اسکول ٹرپ پر گئی، جس پر انہیں 13 ہزار درہم خرچ کرنا پڑا۔ تاہم، کرسٹین کے مطابق یہ تجربہ "قابلِ قدر” تھا۔

"میری بیٹی زیادہ خودمختار، پراعتماد اور تجسس سے بھرپور ہو کر لوٹی۔ وہ اور اس کی دوست نے اکیلے جا کر سودا سلف خریدا، یہ سب کچھ ایک ہفتے میں سیکھا جو شاید کلاس میں ایک سمسٹر میں بھی نہ سیکھتیں،” انہوں نے بتایا۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے ٹرپس بچوں کو محفوظ ماحول میں اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کا موقع دیتے ہیں۔ "ہم نے اسے بجٹ اور وقت کی پابندی کرنا سکھایا، اور ہم اس پر فخر محسوس کرتے ہیں،” کرسٹین نے کہا۔

اساتذہ کا مؤقف
ابوظبی کے شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل ابھلاشا سنگھ کے مطابق "غیرملکی اسکول ٹرپس نہ صرف سیر و تفریح ہیں بلکہ یہ بچوں کی سیکھنے، ٹیم ورک، وقت کے نظم و ضبط اور بین الثقافتی شعور کو پروان چڑھاتی ہیں۔”

انہوں نے تسلیم کیا کہ مالی دباؤ ایک حقیقت ہے، لیکن بتایا کہ "ہم خاص طور پر مشن ٹرپس یا مقابلوں کے لیے اسپانسرشپ کا انتظام کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک استاد کے شوہر نے ہمارے لیے ایک گروپ ٹرپ کی فنڈنگ میں مدد دی۔”

اپ ٹاؤن انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل کولن گیری نے کہا کہ اسکول کی کوشش ہوتی ہے کہ تمام سرگرمیوں کا نصاب سے ربط ہو۔ "ہماری ہر ٹرپ کا مقصد بچوں کے تعلیمی، ثقافتی اور سماجی علم میں گہرائی پیدا کرنا ہوتا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ "ہم ہر ٹرپ کے آخر میں اس کے اثرات اور افادیت کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ فیصلہ صرف شہرت یا ظاہری شان و شوکت کی بنیاد پر نہ ہو۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button