
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ میں بجٹ ٹریول کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں کم قیمت پر سفر کی سہولت فراہم کرنے والی ایئرلائنز کی مارکیٹ شیئر پچھلے دس برسوں میں دگنی ہو چکی ہے۔
عالمی ہوا بازی کے مشاورتی ادارے OAG کی رپورٹ کے مطابق، 2014 میں مشرق وسطیٰ میں بجٹ ایئرلائنز کا مارکیٹ شیئر صرف 13 فیصد تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر کم قیمت ایئرلائنز کا دھیان خطے کے اندرونی پروازوں پر ہے، لیکن وقت کے ساتھ ان کے نیٹ ورکس میں توسیع ہوئی ہے اور افریقی ممالک ایک اہم مارکیٹ بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی سی سی ممالک میں ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے بجٹ پسند مسافروں کی بڑی تعداد کم قیمت سفر کی مانگ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ جبکہ غیر جی سی سی ممالک میں بجٹ ٹریول ان ممالک کی کم فی کس آمدنی کے باعث مقبول ہو رہا ہے۔
جی سی سی کے چھ ملکوں کی کل آبادی 63.7 ملین ہو چکی ہے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں غیر ملکی باشندوں کا بڑا حصہ موجود ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی اور بجٹ پسند صارفین کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں کئی نئی بجٹ ایئرلائنز متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں ایئرعربیہ ابوظہبی، وز ایئر، فلائناس اور سلام ایئر شامل ہیں۔
فلائی دبئی اور ایئر عربیہ کی پروازوں کا بڑا حصہ ایشیا، خاص طور پر برصغیر کی جانب مرکوز ہے، جو کہ مشرق وسطیٰ میں موجود بڑی تعداد میں بلیو کالر ورکرز کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ عالمی سطح پر، 2024 میں کم قیمت ایئرلائنز کا مارکیٹ شیئر 34 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
2024 میں مشرق وسطیٰ کی کم قیمت ایئرلائن مارکیٹ میں آٹھ بڑی کمپنیاں شامل ہیں جن میں فلائی دبئی اور فلائناس سرفہرست ہیں، جن کا انفرادی مارکیٹ شیئر تقریباً 25 فیصد ہے۔ دیگر نمایاں ایئرلائنز میں ایئر عربیہ، فلائی ادیل، جزیرہ ایئر ویز، سلام ایئر، وز ایئر ابوظہبی اور ایئر عربیہ ابوظہبی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بجٹ ایئرلائنز کی گنجائش (capacity) گزشتہ دہائی میں ہر سال اوسطاً 11.5 فیصد کے حساب سے بڑھی ہے، جبکہ مین لائن ایئرلائنز کی گنجائش میں سالانہ اوسطاً صرف 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔
متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ایئرلائنز، چاہے وہ بجٹ ہوں یا مکمل سروس فراہم کرنے والی، پچھلے چند برسوں کے دوران زبردست ترقی کے مراحل سے گزری ہیں، جس سے نہ صرف منافع میں اضافہ ہوا بلکہ ملازمتوں کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔
OAG کے مطابق، دستیاب نشستوں (available capacity) کے لحاظ سے مشرق وسطیٰ دنیا کا چھٹا بڑا خطہ بن چکا ہے، جہاں 2024 میں 270 ملین یک طرفہ نشستیں دستیاب رہیں، جو اس خطے کو مشرقی یورپ سے آگے اور جنوبی ایشیا سے پیچھے رکھتی ہیں۔
2024 میں صرف دو مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، یعنی ایمریٹس اور قطر ایئر ویز، دنیا کی ٹاپ 20 ایئرلائنز برائے گنجائش اور ٹاپ 10 ایئرلائنز برائے نشستوں کی دوری (ASKs) میں شامل ہوئیں۔







