متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے اسکولوں میں بڑی تبدیلی کی تیاری، 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے اثرات متوقع

خلیج اردو
نئے تعلیمی سال کے آغاز پر یو اے ای کے اسکول 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے والے نئے قوانین کے اثرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے طلبہ کی ذہنی صحت، توجہ اور سماجی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔

تعلیمی اور ذہنی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا تک محدود رسائی سے آن لائن توجہ بٹنے میں کمی، دوسروں سے موازنہ کم ہونے اور بچوں کی آمنے سامنے سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھنے کے امکانات ہیں۔ تاہم ابتدا میں بعض بچے غصے، بوریت، تنہائی اور دوستوں سے پیچھے رہ جانے کے خوف کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

جی ای ایم ایس ایجوکیشن کی چائلڈ پروٹیکشن ماہر کلیئر اسکون کے مطابق جو بچے سوشل میڈیا کو اپنی دوستی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں وہ ابتدا میں پریشانی یا محرومی محسوس کرسکتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا کی مصروفیات کم ہونے سے بچوں کو کھیلوں، جسمانی سرگرمیوں اور دوستوں سے براہ راست میل جول کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا سے دوری بچوں کو آن لائن دنیا میں اپنی بہترین تصویر پیش کرنے کے دباؤ، سائبر بُلنگ اور دوسروں سے مسلسل موازنہ کرنے سے بھی بچا سکتی ہے جس سے خود اعتمادی بہتر ہوسکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے دوستوں سے رابطے، مدد حاصل کرنے اور اظہارِ خیال کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے اچانک پابندی سے کچھ بچے تنہائی، بے چینی اور سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کا احساس کرسکتے ہیں۔

ماہرین نے والدین اور اسکولوں کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کو سزا دینے کے بجائے اسے طرز زندگی میں تبدیلی کے طور پر سمجھائیں۔ کھیلوں، آرٹس، ہابی کلاسز، اسکول کلبز اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو سوشل میڈیا کے متبادل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی سماجی اور تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

کلاس روم میں توجہ بہتر ہونے کی توقع

ماہرین کے مطابق تفریحی سوشل میڈیا کا استعمال کم ہونے سے طلبہ کی کلاس روم میں توجہ بھی بہتر ہوسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مسلسل توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس کے باعث بچوں کے لیے طویل وقت تک کسی ایک کام پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی سے بچوں کی نیند، پڑھائی میں دلچسپی اور اسباق میں شرکت بہتر ہونے کے امکانات بھی ہیں۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف اسکرین ٹائم کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ بچے اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں۔ تعلیمی ٹیکنالوجی اب بھی بچوں کی تعلیم کا اہم حصہ ہے اس لیے تمام اسکرین استعمال کو ایک جیسا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ماہرین نے زور دیا کہ بچوں کو مستقبل میں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ انہیں آن لائن پرائیویسی، ڈیجیٹل فٹ پرنٹ، غلط معلومات، الگورتھمز، ذاتی معلومات کے تحفظ اور آن لائن رویوں کے بارے میں آگاہی دی جائے۔

ماہرین کے مطابق نئے قوانین کی کامیابی صرف سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگی کہ بچوں کی روزمرہ زندگی میں اس کے متبادل کے طور پر دوستیاں، کھیل، مشاغل، تخلیقی سرگرمیاں اور کلاس روم میں مثبت مشغولیت کس حد تک فراہم کی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button