
خلیج اردو
دبئی میں مشترکہ رہائش اب صرف ان علاقوں میں قائم کی جاسکے گی جنہیں دبئی میونسپلٹی نے اس مقصد کے لیے مخصوص کیا ہے۔ میونسپلٹی کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق مشترکہ رہائش میں خاندانوں اور بیچلرز کے لیے الگ اقسام شامل ہوں گی، تاہم بڑے سیاحتی اور تجارتی علاقوں میں صرف خاندانی مشترکہ رہائش کی اجازت ہوگی۔
بنی یاس روڈ، شیخ زاید روڈ، جمیرا روڈ اور الوصل روڈ سمیت اہم سیاحتی اور تجارتی سڑکوں پر واقع جائیدادوں میں صرف خاندانوں کے لیے مشترکہ رہائش کی اجازت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والے افراد ایک کمرہ کسی اکیلے کارکن یا غیر متعلقہ افراد کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال نہیں کرسکیں گے۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق مشترکہ رہائش کے لیے موزوں علاقوں کا تعین منصوبہ بندی کے مطالعات اور شہری تجزیے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری گائیڈ میں مشترکہ رہائش کے لیے ضروری تقاضوں اور تکنیکی معیارات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
جو افراد مشترکہ رہائش فراہم کرنا یا ایسی رہائش میں منتقل ہونا چاہتے ہیں، انہیں پہلے یہ جانچنا ہوگا کہ متعلقہ عمارت منظور شدہ زون میں واقع ہے یا نہیں۔ نئے قواعد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مشترکہ رہائش سے رہائشی علاقوں کے معیار زندگی پر منفی اثر نہ پڑے۔
گائیڈ کے قواعد نئی عمارتوں کے ساتھ ان موجودہ عمارتوں پر بھی لاگو ہوں گے جنہیں مشترکہ رہائش کی اجازت دینے کے لیے تبدیل کیا گیا ہے۔ ڈویلپرز اور جائیداد مالکان کو 8 ستمبر 2027 تک اپنی رہائش کو دبئی میونسپلٹی کے مقرر کردہ نئے تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا۔
رواں سال فروری میں دبئی میں مشترکہ رہائش کے انتظام اور استعمال کو منظم کرنے کے لیے نیا قانون جاری کیا گیا تھا۔ قانون میں اجازت ناموں، لیزنگ اور حفاظتی معیارات کے حوالے سے واضح قواعد مقرر کیے گئے ہیں، جن کا مقصد رہائشیوں اور جائیداد مالکان کا تحفظ، گنجائش سے زیادہ رہائش اور غیر رسمی ہاؤسنگ کی روک تھام ہے۔ خلاف ورزی پر 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت مشترکہ رہائش کو دو اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم انفرادی رہائش ہے، جس میں ایک رہائشی یونٹ یا ایک کمرے میں متعدد افراد رہائش اختیار کرتے ہیں اور کچن، کھانے کے کمرے، باتھ روم اور بیرونی جگہوں سمیت مختلف سہولیات مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔
دوسری قسم خاندانی رہائش ہے، جس میں ایک ہی رہائشی یونٹ میں ایک سے زیادہ خاندان مشترکہ رہائش اختیار کرتے ہیں۔ اس میں بھی کچن، کھانے کے کمرے، باتھ روم اور بیرونی جگہوں سمیت مختلف سہولیات مشترکہ طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔
مشترکہ رہائش اپارٹمنٹس پر مشتمل عمارتوں کے علاوہ علیحدہ اور منسلک ولاز میں بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔ سرکلر میں مکینوں کی تعداد اور منصوبہ بندی سے متعلق تقاضے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں ہر فرد کے لیے بیڈروم میں کم از کم جگہ، مشترکہ کچن اور باتھ روم کی سہولیات اور صحت سے متعلق مخصوص تناسب شامل ہیں۔
گائیڈ میں انتظامی فیس اور عمارت میں تبدیلی کی درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جبکہ یہ ضوابط پہلے سے نافذ عمارتوں کی منصوبہ بندی کے نظام کے ساتھ لاگو ہوں گے۔







