
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے باراکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ میں کام کرنے والی اماراتی خواتین سائنس، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے قومی کردار کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ موزہ المزروعی اور فاطمہ العلی مختلف مراحل پر اپنے کیریئر کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کے پرامن جوہری توانائی پروگرام میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
موزہ المزروعی نے اپنے صنعتی سفر کا آغاز آر اے کے سیرامکس میں انٹرن شپ سے کیا، جس کے بعد انہوں نے اے ایم ای سی فوسٹر وہیلر میں انسٹرومنٹیشن اینڈ کنٹرول انجینئر کے طور پر اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا۔
2019 میں باراکہ منصوبے میں شمولیت ان کے لیے محض ملازمت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ قومی اہمیت کے حامل منصوبے میں کردار ادا کرنے کا موقع بھی تھا۔ آج وہ اینیک آپریشنز میں ری ایکٹر آپریشنز کے شعبے سے وابستہ ہیں اور وفاقی اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن سے سینئر ری ایکٹر آپریٹر کا لائسنس حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
موزہ المزروعی کے مطابق جوہری آپریشنز میں نظم و ضبط، درست فیصلہ سازی اور ہر روز ذمہ داری کا احساس بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں اصل اہمیت صرف عہدہ حاصل کرنے کی نہیں بلکہ اس کے ساتھ آنے والے اعتماد اور ذمہ داری کی ہے۔
باراکہ پلانٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے یونٹس متحدہ عرب امارات کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، کاروباری اداروں اور صنعتوں کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔
دوسری جانب فاطمہ العلی نے امریکن یونیورسٹی آف شارجہ سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جہاں تھرموڈائنامکس، فلوئڈ مکینکس اور ہیٹ اینڈ ماس ٹرانسفر جیسے مضامین نے ان کی تکنیکی بنیاد مضبوط کی۔ اتحاد ڈبلیو ای میں انٹرن شپ کے دوران انہیں ریورس اوسموسس سسٹمز، پلانٹ آپریشنز اور مسائل کے حل کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔
امارات نیوکلیئر انرجی کمپنی میں شمولیت کے بعد فاطمہ العلی نے اپنی تعلیمی معلومات کو جوہری توانائی کے عملی ماحول میں استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ اس وقت باراکہ میں لوکل آپریٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور اینیک کے گریجویٹ پلانٹ آپریٹر پروگرام کا حصہ ہیں، جس میں تکنیکی تربیت، عملی تجربہ اور ماہرین کی رہنمائی شامل ہے۔
فاطمہ العلی کے مطابق اس پروگرام کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کو عملی ماحول میں استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے مطابق جوہری شعبے میں تکنیکی علم کے ساتھ ٹیم ورک، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ رویہ بھی انتہائی ضروری ہے۔
فاطمہ العلی مستقبل میں سینئر ری ایکٹر آپریٹر بننے کی خواہش رکھتی ہیں، تاہم ان کی موجودہ توجہ ایک مضبوط لوکل آپریٹر بننے اور دستیاب تجربات سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے پر ہے۔ ان کے مطابق اعتماد ہر چیز ایک ساتھ جاننے سے نہیں بلکہ تیاری اور مستقل مزاجی سے پیدا ہوتا ہے۔
باراکہ پلانٹ میں اماراتی ماہرین کے ساتھ مختلف ممالک کے جوہری شعبے سے وابستہ ماہرین بھی کام کر رہے ہیں۔ موزہ المزروعی کے مطابق مختلف ثقافتوں اور جوہری پروگراموں سے آنے والے ماہرین کے ساتھ کام کرنے سے نئی سوچ اور تجربات سیکھنے کا موقع ملتا ہے، جس سے ٹیم کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن کے مطابق ملک کے جوہری توانائی پروگرام میں آپریشنز، انجینئرنگ اور قیادت کے مختلف شعبوں میں 2 ہزار سے زائد اماراتی شہری شامل ہوچکے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی قومی مہارت سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں خواتین کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
فاطمہ العلی نے خواتین کے لیے مستقبل کی مہارتوں کے پروگرام اور ارشاد مینٹورشپ پروگرام میں بھی حصہ لیا، جہاں انہیں مواصلات، تعلیم، پبلک پالیسی اور انجینئرنگ و کاروباری شعبوں سے وابستہ تجربہ کار ماہرین سے سیکھنے کا موقع ملا۔
دونوں اماراتی خواتین کا کہنا ہے کہ تکنیکی شعبے میں کامیابی کے لیے ابتدا ہی میں مکمل اعتماد یا تمام معلومات کا ہونا ضروری نہیں۔ موزہ المزروعی نوجوان اماراتی خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ تجسس برقرار رکھیں، سوالات پوچھیں، مضبوط بنیاد بنائیں اور مسلسل سیکھنے کے لیے تیار رہیں۔
امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن کے اگست 2025 کے مطابق دستیاب اعداد و شمار میں خواتین اس ادارے کی افرادی قوت کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور انجینئرنگ، آپریشنز، نیوکلیئر سیفٹی اور قیادت سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خواتین متحدہ عرب امارات کے پرامن جوہری توانائی پروگرام میں بھی تقریباً 20 فیصد نمائندگی رکھتی ہیں، جن میں سینئر ری ایکٹر آپریٹرز اور ایندھن کی لوڈنگ جیسے اہم شعبوں میں کام کرنے والی ماہرین شامل ہیں۔







