
خلیج اردو
دبئی کی امریکن سکول کی گریڈ 12 کی طالبہ غالیہ وہبی نے اپنے دادا کی یادداشت کمزور ہونے کے ذاتی تجربے سے متاثر ہوکر الزائمر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کرلی ہے۔
غالیہ وہبی کی تیار کردہ ایپ ’الزیمیٹ‘ کا مقصد الزائمر کے مریضوں کو ان کے مانوس چہروں، آوازوں اور یادوں سے دوبارہ جڑنے میں مدد دینا ہے، جبکہ خاندانوں اور نگہداشت کرنے والوں کو بھی مریض سے متعلق اہم معلومات محفوظ رکھنے کے لیے ایک جگہ فراہم کرنا ہے۔
غالیہ کے مطابق ایپ حال ہی میں متعارف کرائی گئی اور اب تک اسے 400 سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے۔ ایپ میں خاندان مریض کے لیے تصاویر، یادیں، اہم افراد کے نام اور رشتے، آواز کی ریکارڈنگ، موسیقی، ادویات کی تفصیلات اور دیگر معلومات محفوظ کرسکتے ہیں۔
غالیہ کے مطابق اس منصوبے کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ تقریباً سات برس کی تھیں اور ان کے دادا کی یادداشت تیزی سے متاثر ہونا شروع ہوئی۔ ایک موقع پر ان کے دادا اپنے پوتے پوتیوں کے نام اور شناخت یاد رکھنے میں مشکل محسوس کرنے لگے، حالانکہ وہ انہیں پوری زندگی سے جانتے اور محبت کرتے تھے۔
غالیہ نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے دادا انہیں نام سے پکارنا بھول گئے۔ ان کے مطابق دادا کی آنکھوں میں وہ اب بھی یہ محسوس کرسکتی تھیں کہ وہ انہیں پہچانتے ہیں، تاہم اپنا نام یاد نہ رکھ پانے کی مشکل بھی واضح طور پر نظر آتی تھی۔
اسی تجربے نے غالیہ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے الزائمر کے مریضوں اور ان کے قریبی لوگوں کے درمیان متاثر ہونے والے تعلق کو کسی حد تک مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق الزائمر صرف یادداشت کھونے کی بیماری نہیں بلکہ اس کے باعث مریض کے لیے مانوس افراد اور رشتوں کو پہچاننا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
الزیمیٹ میں خاندان یا نگہداشت کرنے والا مریض کے لیے ذاتی پروفائل بنا سکتا ہے۔ اس میں تصاویر، اہم یادیں، افراد کے نام، رشتے، آوازیں اور موسیقی شامل کی جاسکتی ہے۔ خاندان وقت کے ساتھ اس پروفائل اور البمز میں مزید معلومات کا اضافہ بھی کرسکتا ہے۔
غالیہ کے مطابق ایپ کے خاندانی البمز کا مقصد مریض کو اپنے پیاروں کے چہروں، ناموں، رشتوں اور مشترکہ یادوں سے دوبارہ مانوس ہونے میں مدد دینا ہے تاکہ جب وہ خاندان کے ساتھ وقت گزاریں تو انہیں یہ سمجھنے میں کم وقت لگے کہ اردگرد موجود افراد کون ہیں اور وہ ان کے ساتھ بات چیت اور تعلق قائم کرنے میں زیادہ وقت گزار سکیں۔
غالیہ نے بتایا کہ ایک خاندانی تقریب کے دوران انہوں نے اپنے دادا کو زیادہ تر وقت اردگرد موجود لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کرتے دیکھا، جس سے انہیں احساس ہوا کہ الزائمر کا مریض اپنے پیاروں سے گھرا ہونے کے باوجود تنہائی محسوس کرسکتا ہے۔
ایپ میں ادویات اور دیگر اہم معلومات محفوظ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے، جس کا مقصد نگہداشت کرنے والوں کو مریض کی روزمرہ دیکھ بھال کے بعض عملی امور میں مدد فراہم کرنا ہے۔
غالیہ کا کہنا ہے کہ وہ صارفین سے ملنے والے تجربات اور تجاویز کی بنیاد پر الزیمیٹ کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ یہ ایپ صرف ان کے دادا کی کہانی تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا بھر میں الزائمر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مددگار ثابت ہو۔
غالیہ نے واضح کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایپ کو صارفین کے لیے مفت رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی سہولت جو الزائمر سے متاثرہ خاندانوں کی حقیقی مدد کرسکتی ہو، اس تک ہر شخص کی رسائی ہونی چاہیے۔







