متحدہ عرب امارات

دبئی کی ٹیکسی میں بھولا ہینڈ بیگ بھارتی کاروباری شخص کو مستقل طور پر متحدہ عرب امارات لے آیا

خلیج اردو
دبئی میں ٹیکسی میں بھولا ہوا ہینڈ بیگ نہ صرف اپنی مالکن کو واپس مل گیا بلکہ اس واقعے نے جنوبی افریقہ میں مقیم ایک بھارتی کاروباری شخص کو اپنے اثاثے فروخت کرکے متحدہ عرب امارات منتقل ہونے پر بھی آمادہ کردیا۔

عرب کاسٹ پوڈکاسٹ میں واقعہ بیان کرتے ہوئے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور قانونی مشیر عارف بوشقر الفلاسی نے بتایا کہ کاروباری شخص اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ جنوبی افریقہ سے دبئی آیا تھا۔ خاتون ایک مال جانے کے لیے ٹیکسی میں سوار ہوئیں، تاہم منزل پر اترتے وقت اپنا ہینڈ بیگ گاڑی میں ہی بھول گئیں۔

الفلاسی کے مطابق کچھ دیر بعد جب انہیں ہینڈ بیگ کے ٹیکسی میں رہ جانے کا احساس ہوا تو گاڑی وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ واپس اسی ہوٹل پہنچے جہاں سے ٹیکسی لی گئی تھی۔ وہاں انہیں وہی ڈرائیور مل گیا، جس نے بتایا کہ مسافر اپنا ہینڈ بیگ گاڑی میں چھوڑ گئے تھے۔

الفلاسی نے بتایا کہ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی پالیسی کے تحت ہوٹلوں پر موجود ٹیکسیوں کو مسافروں کو اتارنے کے بعد دوبارہ اسی مقام پر واپس آنا ہوتا ہے، جہاں وہ انتظار کے لیے کھڑی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ڈرائیور بھی دوبارہ ہوٹل پہنچ گیا تھا۔

خاتون نے ہینڈ بیگ کھول کر اس میں موجود سامان چیک کیا تو کچھ بھی غائب نہیں تھا۔ الفلاسی کے مطابق اس تجربے نے خاتون پر گہرا اثر ڈالا، کیونکہ جنوبی افریقہ میں گھر پر سکیورٹی اور تالے ہونے کے باوجود انہیں چوری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

الفلاسی نے بتایا کہ خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہاں ان کا بیگ گم ہوا لیکن تمام سامان کے ساتھ واپس مل گیا، اس لیے وہ دبئی چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے شوہر پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھی مستقل طور پر دبئی منتقل ہونے کا فیصلہ کریں۔

کاروباری شخص نے ابتدا میں کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ فوری طور پر ممکن نہیں، تاہم اہلیہ کے اصرار پر انہوں نے چھ ماہ کے اندر تمام اثاثے منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔

الفلاسی کے مطابق کاروباری شخص نے اپنا وعدہ پورا کیا، جنوبی افریقہ میں موجود اپنے اثاثے فروخت کیے اور اپنے 10 بہترین ملازمین کو بھی دبئی منتقل کیا، جنہیں کاروبار کے انتظامی امور کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

الفلاسی نے کہا کہ اس کاروباری شخص کی دبئی منتقلی کا آغاز کسی بڑے کاروباری معاہدے یا سرکاری مہم سے نہیں بلکہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی دیانت داری کے معمولی مگر متاثر کن واقعے سے ہوا۔

ان کے مطابق روزمرہ زندگی میں مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کسی ملک کے بارے میں آنے والے افراد کے تاثر پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں اور بعض اوقات یہی تجربات لوگوں کو وہاں رہائش اختیار کرنے یا کاروبار منتقل کرنے جیسے بڑے فیصلے کرنے پر بھی آمادہ کردیتے ہیں۔

الفلاسی نے ٹیکسی ڈرائیور کے طرز عمل کو دبئی کی ’’سافٹ پاور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی دیانت داری نے کاروباری خاندان کو متحدہ عرب امارات کے محفوظ ماحول کا عملی احساس دلایا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button