متحدہ عرب امارات

فلائی دبئی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، آکسیجن ماسک، تباہ شدہ رڈر اور پلمبر سے متعلق پانچ اہم سوالات

خلیج اردو
30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد طیارے میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے تفتیش کاروں نے ابتدائی نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر دہشت گردی کی کارروائی کی کوشش کی، تاہم ہوا بازی اور فوجداری تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

واقعے کے بعد سب سے زیادہ زیر بحث سوالات میں یہ شامل ہے کہ طیارے کے تقریباً 16 ہزار فٹ بلندی کھونے کے باوجود آکسیجن ماسک کیوں نہیں گرے، نقصان زدہ رڈر کے ساتھ طیارہ کیسے پرواز اور لینڈنگ کرتا رہا، کیا واقعی ایک پلمبر نے طیارہ اتارا اور اتنی تیزی سے بلندی کھونے کے باوجود طیارہ کیسے محفوظ رہا۔

ہوا بازی کے تجزیہ کار اور اسٹریٹیجک ایرو ریسرچ کے چیف اینالسٹ ساجد احمد کے مطابق آکسیجن ماسک کا خودکار طور پر فعال ہونا طیارے کی تیزی سے بلندی کم ہونے سے نہیں بلکہ کیبن پریشر سے متعلق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے میں کیبن پریشر میں خرابی یا ایسی ڈی کمپریشن کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جو آکسیجن ماسک کھولنے کا سبب بنتی۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ تیزی سے نیچے آ سکتا ہے لیکن اگر اس کا پریشرائزیشن سسٹم کیبن میں محفوظ دباؤ برقرار رکھ رہا ہو تو مسافروں کے لیے اضافی آکسیجن ضروری نہیں ہوتی۔ اس لیے ڈرامائی انداز میں بلندی کم ہونے کے باوجود آکسیجن ماسک کا اپنی جگہ موجود رہنا غیر معمولی نہیں۔

ایک اور دعویٰ یہ سامنے آیا کہ بغیر پرواز کے تجربے کے ایک پلمبر نے طیارہ لینڈ کیا۔ تاہم پلمبر یانیو حیون نے خود بتایا کہ اس نے ہنگامی صورتحال کے دوران مختصر وقت کے لیے طیارے کے کنٹرول سنبھالے تھے، لیکن بعد میں ایک پائلٹ نے طیارہ لینڈ کیا۔

فلائی دبئی نے بھی اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ پرواز میں موجود ڈیوٹی پر مامور عملے نے طیارے کو محفوظ کیا، اس کا رخ تبدیل کیا اور تبوک میں محفوظ لینڈنگ کی۔ بعد ازاں چیف ایگزیکٹو غیث الغیث نے بھی طیارے کو محفوظ طریقے سے اتارنے والے پائلٹس کا شکریہ ادا کیا۔ اس لیے دستیاب معلومات پلمبر کے طیارہ لینڈ کرنے کے دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔

طیارے کے رڈر کو پہنچنے والے نمایاں نقصان نے بھی سوالات اٹھائے کہ وہ قابو میں کیسے رہا۔ ہوا بازی کے ماہر کے مطابق رڈر طیارے کی دائیں اور بائیں سمت میں حرکت یعنی یاؤ کو کنٹرول کرتا ہے، تاہم یہ طیارے کے کئی فلائٹ کنٹرول سسٹمز میں سے صرف ایک ہے۔

ان کے مطابق رڈر کے ایک بڑے حصے کے نقصان کے باوجود پائلٹس کے پاس ایلی ویٹرز موجود تھے، جن سے طیارے کی پچ اور بلندی کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا، جبکہ پروں پر موجود ایلیرونز سے طیارے کو دائیں یا بائیں موڑنے اور انجن کنٹرول کے ذریعے تھرسٹ اور کارکردگی کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہی۔

ماہر نے واضح کیا کہ کسی بھی کنٹرول سطح کا نقصان خطرہ بڑھاتا ہے، لیکن طیارے میں موجود دیگر کنٹرول سسٹمز کی مدد سے اسے قابو میں رکھنا اور زمین پر اتارنا ممکن ہو سکتا ہے۔

تقریباً 16 ہزار فٹ بلندی کھونے کے باوجود طیارے کے محفوظ رہنے کے سوال پر بھی ماہر نے کہا کہ صرف کھوئی گئی بلندی کی مقدار سے یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ طیارہ لازماً ٹوٹ جانا چاہیے تھا۔ کمرشل طیارے مضبوط ساخت اور لچکدار پروں کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں تاکہ وہ نمایاں فضائی دباؤ برداشت کرسکیں۔

ان کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ طیارے نے بلندی کیسے کھوئی، اس دوران رفتار، نیچے آنے کی شرح، طیارے کا زاویہ، جی فورسز اور پائلٹس کے پاس موجود کنٹرول کی صلاحیت کیا تھی۔ تیزی سے بلندی کم ہونا لازماً طیارے کے بے قابو ہوکر گرنے کے مترادف نہیں۔

واقعے کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کپتان سمت مچھھر معاون پائلٹ کے حملے سے اچانک کیسے متاثر ہوئے۔ کپتان کے مطابق حملہ پیچھے سے اور بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سر کے پچھلے حصے پر زور دار ضرب محسوس ہوئی اور ابتدا میں انہیں لگا کہ طیارے کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔

کپتان کے مطابق مسلسل حملوں کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ خطرہ کاک پٹ میں موجود دوسرے شخص سے ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے بعد میں بتایا کہ تحقیقات کے مطابق معاون پائلٹ نے فلائٹ ڈیک میں کریش ایکس کے ذریعے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کے کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔

کپتان نے بتایا کہ حملے کے دوران ان کی بینائی متاثر ہو رہی تھی اور طیارہ نیچے کی جانب جا رہا تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، تاہم حملہ آور نے اسے دوبارہ بند کردیا۔ بعد میں کپتان نے دوبارہ دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد باہر موجود افراد کاک پٹ میں داخل ہوئے اور مداخلت کی۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے کی مکمل تصویر فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز اور دیگر تفتیشی شواہد کے تجزیے کے بعد ہی سامنے آئے گی، جبکہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے تمام دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button