
خلیج اردو
دبئی، 5 جولائی – متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ "ایک ارب کھانوں” کی مہم نے اپنا ہدف مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت گزشتہ تین برسوں میں دنیا کے 65 ممالک میں خوراک فراہم کی گئی۔
یہ مہم رمضان 2022 میں شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں مستحق اور محروم طبقات تک خوراک پہنچانا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 50 ممالک کو خوراک فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جو اب کامیابی سے 65 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔
شیخ محمد نے کہا:
"تین سال قبل ہم نے ایک انسان دوست منصوبہ شروع کیا جس کا مقصد ایک ارب کھانے دنیا بھر کے ضرورت مندوں تک پہنچانا تھا۔ یہ ہدف رواں ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب ہم آئندہ برس مزید 260 ملین (26 کروڑ) کھانے فراہم کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کی فراہمی کو پائیدار بنانے کے لیے مستقل ریئل اسٹیٹ وقف بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ برسوں تک یہ سلسلہ جاری رہے۔
أطلقنا قبل ٣ أعوام مشروعنا الإنساني لتوفير مليار وجبة للمحتاجين حول العالم …
وبحمدالله تم خلال الشهر الجاري إنجاز المشروع بالكامل .. حيث تم توزيع مليار وجبة في 65 دولة حول العالم .. وسيتم توزيع ٢٦٠ مليون وجبة إضافية خلال العام القادم ..كما أنشأنا أوقاف عقارية مستدامة أيضا… pic.twitter.com/pFayFvkfYD
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) July 4, 2025
پہلے اقدامات اور تسلسل
"ایک ارب کھانے” کی مہم دراصل کئی برسوں پر محیط انسان دوست اقدامات کا تسلسل ہے، جن میں:
-
10 ملین کھانے
-
100 ملین کھانے
-
اور پھر رمضان 2022 کی ایک ارب کھانے کی مہم شامل ہے۔
2022 میں اس مہم نے 13 ممالک میں مہاجرین، بحران زدہ خاندانوں اور پسماندہ طبقات کو فوری امداد فراہم کی۔ ان ممالک میں اردن، بھارت، پاکستان، لبنان، کرغیزستان، انگولا، اور یوگنڈا شامل ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی غذائی امدادی مہم
یہ مہم نہ صرف خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی غذائی امدادی کارروائی ہے بلکہ خواتین، بچوں، اور محروم خاندانوں تک بغیر کسی امتیاز کے غذائیت پہنچانے کا عزم بھی رکھتی ہے۔
ایک مکمل اور مربوط فوڈ سپلائی سسٹم کے ذریعے "ایک ارب کھانے” کی مہم دنیا بھر میں کمزور آبادیوں تک مسلسل اور پائیدار غذائی امداد پہنچانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
عالمی ہدف کی حمایت
یہ مہم اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 2 کی حمایت کرتی ہے، جس کا مقصد 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ ہے۔







