متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان کی فوجداری عدالت نے مساج پارلر میں خواتین ورکرز سے پیسے چرانے کے جرم میں 6 افراد کو 3 سال قید کی سزا سنادی ، ایشیائی باشندوں نے خواتین کارکنوں کو اسلحے کے زور پر مارا پیٹ کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ گلف نیوز کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کے ریکارڈ سے انکشاف ہوا کہ پولیس کو 2 ایشیائی خواتین کی طرف سے ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جب وہ ایک مساج پارلر میں تھیں تو ان پر زبردستی اور دھمکیاں دیتے ہوئے حملہ کرکے انہیں لوٹ لیا گیا ، مساج پارلر کو کورونا کی وجہ سے بند ہونے کے بعد عملے کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔
خواتین کارکنوں نے بتایا کہ رات 11 بج کر 30 منٹ پر انہوں نے ایک ریسٹورنٹ سے کھانا آرڈر کیا ، جب ریسٹورنٹ ڈرائیور کھانا پہنچانے آیا تو ملزمان اس کے پیچھے چھریاں لے کر داخل ہوئے ، انہوں نے لباس کے ماسک پہنے ہوئے تھے جو ان کے چہرے کا زیادہ تر حصہ ڈھانپتے تھے ، اس وقت رہائش گاہ کے اندر 5 خواتین موجود تھیں اور ملزمان نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں جب کہ ایک خاتون اور اس کے دوست پر حملہ کیا گیا ، ملزمان 5500 درہم نقدی اور طلائی زیورات لے گئے تاہم خوش قسمی سے اس دوران تین خواتین اپارٹمنٹ کی بالکونی میں چھپنے میں کامیاب ہوگئیں۔
دوسری طرف متحدہ عرب امارات میں 3 دوشیزاؤں نے شوقین مزاج آئی ٹی ماہر کو مساج سینٹر پہنچنے پر لوٹ لیا ، دبئی کی ایک فوجداری عدالت نے خواتین کو ایک آئی ٹی ماہر کو مساج کی پیشکش کرکے اپنی جانب راغب کرکے اپنے اپارٹمنٹ بلانے کے بعد لوٹنے اور اس پر حملہ کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنائی ہے ، ان پر 2 لاکھ 84 پزار درہم جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا جب کہ عدالت نے ایک خاتون کو بری کر دیا ، جو واقعہ کے وقت اپارٹمنٹ میں موجود تھی۔







