متحدہ عرب امارات

الاقصیٰ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں پر یو اے ای کا شدید ردعمل، اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا

خلیج اردو
ابوظہبی – متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے مسجد اقصیٰ اور یروشلم کے اسلامی محلے میں فلسطینیوں کے خلاف کی گئی "شرمناک اور اشتعال انگیز خلاف ورزیوں” پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان اقدامات کو مسلمانوں کے خلاف "سنجیدہ اشتعال انگیزی اور مقدس شہر کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا گیا۔ بیان میں مذہبی ہم آہنگی اور عالمی امن کو لاحق خطرات کے تناظر میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔

وزارت نے اسرائیلی انتہاپسندوں کے بار بار حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پوری عالمی برادری کے خلاف منظم مہم کا حصہ ہیں۔ بیان میں متنبہ کیا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات غزہ کی پٹی میں جاری انسانی بحران کے حل کی کوششوں کو متاثر کر کے مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

یو اے ای نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، ذمہ داران — بشمول عوامی عہدیداروں — کو جوابدہ بنائے، اور یروشلم کو انتہا پسندی اور تشدد پر مبنی ایجنڈوں کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ان اقدامات کو روکنے میں ناکامی ظاہر کی تو یہ خاموش منظوری تصور کی جائے گی، جو مزید نفرت، نسل پرستی اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے گی۔

بیان میں یو اے ای نے یروشلم میں اسلامی مقدسات کے تحفظ میں اردن کی ہاشمی حکومت کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا، اور بین الاقوامی قانون اور تاریخی حیثیت کا احترام کرنے پر زور دیا۔ ساتھ ہی مسجد اقصیٰ، قبۃ الصخرہ اور دیگر متعلقہ مقامات کے انتظامی امور دیکھنے والے محکمہ اوقاف القدس کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آخر میں یو اے ای نے بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے تمام اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مذہبی مقامات کے تحفظ اور یروشلم کو بقائے باہمی اور امن کی علامت کے طور پر برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button