
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا اتھارٹی نے ایک خاتون رہائشی کے خلاف سوشل میڈیا پر اماراتی خواتین کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کرنے پر قانونی کارروائی کی ہے۔ خاتون کا مُعلن (Mu’lin) یا ایڈورٹائزر پرمٹ تین ماہ کے لیے معطل کردیا گیا۔
اتھارٹی کے مطابق خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا مواد میڈیا کنٹینٹ کے معیارات کی خلاف ورزی اور اماراتی خواتین کے مقام اور کردار کو متاثر کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ اماراتی خواتین کی توہین، معاشرتی اقدار یا قومی شناخت سے متصادم مواد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس سے قبل رواں ماہ سوشل میڈیا لائیو نشریات کے دوران توہین آمیز مواد پر دو افراد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی تھی۔ اتھارٹی کے مطابق مواد ثقافتی ورثے، قومی شناخت اور معاشرتی اقدار سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔ ان میں سے ایک شخص کا مُعلن پرمٹ تین ماہ کے لیے معطل کیا گیا۔
کن سوشل میڈیا پوسٹس پر کارروائی ہوسکتی ہے؟
نیشنل میڈیا اتھارٹی کے ضوابط صرف روایتی خبروں تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا، آن لائن میڈیا اور تخلیق کاروں کے اشتہاری مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
ایسا مواد کارروائی کا سبب بن سکتا ہے جو:
- افراد کی توہین یا تضحیک کرے اور معاشرتی اقدار سے متصادم ہو۔
- مذہب، قومی شناخت یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنائے۔
- قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔
- نفرت، فرقہ واریت، علاقائی یا قبائلی کشیدگی کو ہوا دے۔
- تشدد، دہشت گردی یا جرائم پر اکسانے والا ہو۔
- جھوٹی خبریں، افواہیں یا گمراہ کن معلومات پھیلائے۔
- جعلی یا غلط نسبت سے منسوب مواد شیئر کرے۔
- کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرے یا نجی معلومات غیر مناسب انداز میں شیئر کرے۔
- عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کرے یا غیر قانونی سرگرمی، منشیات اور تشدد کو فروغ دے۔
- اشتہاری مواد میں یو اے ای کی ثقافت، قومی شناخت اور اقدار کو نظر انداز کرے۔
اتھارٹی کے مطابق ہر تنقیدی تبصرے پر لازماً کارروائی نہیں ہوتی بلکہ معاملے کے حقائق، سیاق و سباق اور قانونی عمل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم صرف زیادہ ویوز یا انگیجمنٹ حاصل کرنے کی کوشش قوانین کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتی۔
مُعلن پرمٹ کیا ہے؟
مُعلن پرمٹ نیشنل میڈیا اتھارٹی کی جانب سے ان افراد کو جاری کیا جاتا ہے جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس، انٹرنیٹ یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اشتہاری یا میڈیا مواد فراہم کرتے ہیں۔ یہ پرمٹ معاوضے کے عوض یا بغیر معاوضے کے تیار کیے گئے مواد پر بھی لاگو ہوسکتا ہے۔
خلاف ورزی پر کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟
یو اے ای کے میڈیا ریگولیشن قانون کے تحت خلاف ورزی پر وارننگ، 1,000 سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ، کسی خلاف ورزی کرنے والے ادارے یا میڈیا ادارے کو عارضی طور پر چھ ماہ تک بند کرنا یا لائسنس، پرمٹ اور منظوری منسوخ کرنا شامل ہوسکتا ہے۔
دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھ کر 20 لاکھ درہم تک ہوسکتا ہے۔ پرمٹ کی معطلی بھی دستیاب قانونی کارروائیوں میں شامل ہے۔
آن لائن توہین پر الگ قانون بھی موجود
یو اے ای کے سائبر کرائمز قانون کے آرٹیکل 43 کے تحت انفارمیشن نیٹ ورک، آئی ٹی ڈیوائس یا انفارمیشن سسٹم کے ذریعے کسی شخص کی توہین یا ایسا الزام عائد کرنا جس سے اسے سزا یا دوسروں کی نظر میں تضحیک کا سامنا ہو، جرم ہوسکتا ہے۔ اس پر قید اور 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
پوسٹ کرنے سے پہلے تین باتیں ضرور چیک کریں
پوسٹ یا ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے دیکھیں کہ معلومات مصدقہ ہیں یا نہیں۔ فارورڈ میسج، پرانی ویڈیو، اسکرین شاٹ یا غیر مصدقہ دعوے کو بغیر تصدیق حقیقت نہ سمجھیں۔
یہ بھی یقینی بنائیں کہ پوسٹ کسی کی نجی زندگی متاثر نہیں کرتی اور کسی شخص پر بغیر ثبوت الزام نہیں لگایا گیا۔
اس کے علاوہ یہ دیکھیں کہ مواد معاشرتی اقدار، قومی شناخت یا عوامی اخلاقیات کے خلاف تو نہیں یا اس سے نفرت اور تقسیم کو فروغ تو نہیں ملتا۔
حالیہ کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یو اے ای میں سوشل میڈیا پوسٹس، لائیو اسٹریمز، اشتہاری مواد اور آن لائن تبصرے بھی میڈیا قوانین کے دائرے میں آسکتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی یا انتظامی کارروائی ہوسکتی ہے۔






