متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے فری لانس ویزا کے اجرا کے عمل کی جانچ سخت کر دی

خلیج اردو
دبئی — متحدہ عرب امارات نے فری لانس ویزا، جسے "گرین ریزیڈنسی” بھی کہا جاتا ہے، کے اجرا اور جانچ کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حقوق کے تحفظ اور مارکیٹ کو منظم انداز میں چلانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ تمام فریقین کے مفادات محفوظ رہیں۔

دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے امارات الیوم سے گفتگو میں بتایا کہ اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ فری لانس ویزا کے اجرا کو معطل کر دیا گیا ہے۔ المری نے واضح کیا کہ فری لانس ویزے حسبِ معمول سرکاری چینلز کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک ایک لچکدار معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومت اس تبدیلی کے سفر میں پُرعزم ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فری لانس ریزیڈنسی پروگرام کے چند کیسز میں غلط استعمال یا ویزوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کی کوششیں سامنے آئی ہیں، جن کے خلاف فوری کارروائی کی گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل المری نے کہا کہ اس نوعیت کی سخت نگرانی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ مزدور مارکیٹ کا تحفظ اور نظام کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

فری لانس ویزا متحدہ عرب امارات کے اُن اہم اقدامات میں شامل ہے جو خود روزگار اور "ٹیلنٹ اکانومی” کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس ویزے کے حامل افراد کسی اسپانسر یا روایتی آجر کے بغیر قانونی طور پر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔

تاہم، اس ویزے کے تحت دوسرے افراد کو اسپانسر کرنے یا مزدور بھرتی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button