متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں 3 نومبر کو یومِ پرچم قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا

 

خلیج اردو

دبئی: متحدہ عرب امارات میں کل بروز پیر ملک بھر میں یومِ پرچم قومی جذبے اور اتحاد کے عزم کے ساتھ منایا جائے گا۔ صبح 11 بجے تمام وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں اور نجی تنظیموں میں قومی پرچم لہرایا جائے گا۔

یومِ پرچم ہر سال منایا جاتا ہے جس میں اماراتی شہری اور مقیم افراد اپنے وطن، قیادت اور بانیانِ اتحاد کے اصولوں سے تجدیدِ عہد کرتے ہیں۔

شہریوں اور رہائشیوں سے شرکت کی اپیل
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے تمام شہریوں، رہائشیوں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 3 نومبر کو صبح 11 بجے پرچم لہرائیں۔ یہ اقدام اتحاد، یکجہتی اور قومی فخر کی علامت ہے۔

اپنے ایک پیغام میں شیخ محمد بن راشد نے کہا: "بھائیو اور بہنو، 3 نومبر کو ہم یومِ پرچم منائیں گے — یہ وہ دن ہے جب ہم اپنے وطن کے پرچم کے سامنے وفاداری کا عہد دہراتے ہیں، اپنے جذبے کو تازہ کرتے ہیں اور اس قومی نشان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں جو ہماری خودمختاری اور اتحاد کی علامت ہے۔”

یومِ پرچم ملک میں برداشت، ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو اجاگر کرتا ہے، جو امارات کی ایک نمایاں شناخت ہے۔

یومِ پرچم کی تاریخ
یومِ پرچم پہلی بار 2013 میں منایا گیا تھا۔ یہ دن مرحوم شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے 2004 میں صدر مملکت بننے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ موقع اب ایک قومی روایت بن چکا ہے جو دسمبر میں یومِ اتحاد (نیشنل ڈے) کی تقریبات کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔

یہ عوامی تعطیل نہیں
یومِ پرچم کوئی سرکاری چھٹی نہیں ہے، تاہم یہ دن گہری ثقافتی اور قومی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اتحاد، امن اور باہمی احترام کی اقدار کو مضبوط بناتا ہے۔

قومی پرچم لہرانے کے ضوابط
حکام نے یاد دہانی کرائی ہے کہ پرچم لہرانے کے لیے مخصوص قواعد پر عمل کیا جائے:
– پرچم کا تناسب مقررہ ہو، جس میں لمبائی چوڑائی سے دوگنی ہو۔
– رنگوں کا درست ترتیب میں استعمال ہو: سرخ، سبز، سفید اور سیاہ۔
– سرکاری عمارتوں اور سفارتخانوں میں پرچم ہر 45 دن میں چیک اور ہر چھ ماہ بعد تبدیل کیا جائے۔
– پرچم کے غلط استعمال پر پابندی ہے، جیسے اسے لباس، تجارتی یا عارضی اشیا پر استعمال کرنا۔

ملک گیر جشن
3 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے لاکھوں شہری، رہائشی اور سیاح ایک ساتھ قومی پرچم کے نیچے جمع ہوں گے، اپنی قومی شناخت، اتحاد اور ملک کی ترقی پر فخر کے اظہار کے لیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button