متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا نوجوانوں کو مصنوعی منشیات سے خبردار رہنے کا انتباہ، پہلی خوراک بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے حکام نے نوجوانوں اور طلبہ کو مصنوعی (سنتھیٹک) منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی صرف پہلی خوراک بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق مصنوعی منشیات غیرقانونی لیبارٹریوں میں مختلف کیمیائی مرکبات سے تیار کی جاتی ہیں، جن کی طاقت اور کیمیائی ساخت ہر بار مختلف ہوتی ہے، اس لیے صارفین کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے باعث اوور ڈوز، شدید جسمانی و ذہنی پیچیدگیاں اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات میں شابو (کرسٹل میتھ)، اسپائس (مصنوعی کینابینوئڈز) اور فینٹانائل شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ منشیات دماغ اور اعصابی نظام کو شدید متاثر کرتی ہیں، جبکہ فینٹانائل ہیروئن اور مارفین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ طاقتور مصنوعی اوپیئڈ ہے۔

یہ انتباہ نیشنل ڈرگ انفورسمنٹ اتھارٹی کی جانب سے "United as One to Eradicate the Threat” کے عنوان سے شروع کی گئی قومی آگاہی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو منشیات فروشوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنا اور انہیں دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منشیات فروش اکثر نوجوانوں کو یہ کہہ کر ورغلاتے ہیں کہ "صرف ایک بار آزما لو، کچھ نہیں ہوگا” یا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ منشیات توانائی بڑھاتی، توجہ بہتر کرتی یا تعلیمی کارکردگی میں مدد دیتی ہیں، حالانکہ ان کے اثرات وقتی ہوتے ہیں اور بعد میں شدید تھکن، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور دیگر سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

والدین اور تعلیمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نوجوانوں کے رویے میں اچانک تبدیلی، غیرمعمولی دیر تک جاگنا، بلاوجہ چڑچڑاپن، سماجی تنہائی یا وزن میں تیزی سے تبدیلی جیسی علامات پر نظر رکھیں، کیونکہ بروقت مدد نوجوانوں کو طویل مدتی نقصان سے بچا سکتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ مدد کے خواہشمند افراد کے لیے حصن (Hisn) سروس 80044 پر دستیاب ہے، جہاں رازداری کے ساتھ رہنمائی اور معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ رضاکارانہ طور پر علاج کروانے والے افراد کو قانونی تحفظ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ بلاخوف بحالی کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی منشیات کے خلاف سب سے مؤثر دفاع آگاہی ہے، اور پہلی پیشکش کو مسترد کرنا ہی اپنی صحت، مستقبل اور خاندان کے تحفظ کا بہترین فیصلہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button