
خلیج اردو
دبئی: ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارتی اور پاکستانی سرمایہ کار دبئی کے بڑے پراپرٹی خریداروں میں شامل ہیں، تاہم کمزور روپے اور مہنگائی کے باعث ان کی خریداری کی قوت امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور ہے۔
اسٹامن رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ "فارن بائر پاور انڈیکس” کے مطابق بھارتی روپے کی گراوٹ نے خریداروں کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے اور بھارت کو اس فہرست میں 18ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ حال ہی میں بھارتی روپیہ اماراتی درہم کے مقابلے میں 24 کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اگرچہ یو اے ای میں مقیم بھارتی شہری اور ہائی نیٹ ورتھ انفرادی سرمایہ کار اب بھی بڑے پیمانے پر جائیداد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، لیکن روپے کی کمزوری نے ان کی مجموعی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔
اسی طرح پاکستانی روپیہ حالیہ عرصے میں کچھ مستحکم رہا ہے، تاہم پاکستان میں شدید مہنگائی کے باعث پاکستانی سرمایہ کاروں کی قوت خرید دبئی کی جائیداد میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کمزور ہو گئی ہے۔ انڈیکس میں پاکستانی خریدار 22ویں نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی، امریکی اور کویتی سرمایہ کاروں کی قوت خرید سب سے زیادہ ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور آسٹریلیا کے سرمایہ کار بھی ٹاپ 10 میں شامل ہیں۔
اسٹامن کے سی ای او ژینگ جیان کے مطابق برطانوی پاؤنڈ کی اماراتی درہم کے مقابلے میں نمایاں مضبوطی نے برطانوی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ پاؤنڈ جنوری 2025 میں 4.47 سے بڑھ کر ستمبر میں 5 کے قریب پہنچ گیا، جو گزشتہ 14 برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ یورو بھی جنوری میں 3.76 سے ستمبر میں 4.35 تک پہنچ گیا ہے جس سے یورپی سرمایہ کاروں کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔
جیان نے مزید کہا کہ دبئی کے مختلف علاقوں میں مختلف غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ "دبئی آئی لینڈز میں یورپی خریدار بڑی تعداد میں دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ جمیرہ گارڈن سٹی میں روسی اور سی آئی ایس ممالک کے خریدار نسبتاً سستی فیملی یونٹس کی تلاش میں ہیں۔”







