خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں دھند، بارش اور ریت کے طوفان جیسے غیر متوقع موسمی حالات کے پیش نظر اسکولوں نے اپنے حفاظتی منصوبوں کو مزید مستحکم کر لیا ہے اور والدین کو بروقت آگاہ رکھنے کیلئے رابطے کے جدید ذرائع کو مضبوط بنایا ہے۔ حکام کی ہدایت کے مطابق تعلیمی ادارے ایمرجنسی پریپیئرڈنیس اینڈ ریسپانس پالیسی کے تحت موسمی الرٹس کی کڑی نگرانی، تعلیمی اتھارٹی کی رہنمائی پر عمل اور فوری کمیونیکیشن پروٹوکولز اپنانے کے پابند ہیں۔
ابوظہبی میں شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول نے اپنے ریجن کے مخصوص موسمی حالات کے مطابق ایک جامع ریسپانس سسٹم تیار کیا ہے۔ آپریشنز ہیڈ اوم پرکاش پرساد نے بتایا کہ دھند یا کم حدِ نگاہ کے دوران اسکول بسیں تاخیر سے روانہ کی جاتی ہیں اور طلبہ کو اندرونی جگہوں پر نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ ریت کے طوفان یا تیز ہواؤں کے دوران بیرونی سرگرمیاں منسوخ کر دی جاتی ہیں اور وینٹیلیشن سسٹمز اس طرح منظم کیے جاتے ہیں کہ ہوا کا معیار بہتر رہے۔ والدین کو سلامہ ایپ، ایس ایم ایس، ای میل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریئل ٹائم اپڈیٹس دی جاتی ہیں۔
دبئی میں اسکولز بھی نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KHDA)، روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) اور دبئی پولیس کے ساتھ قریبی تعاون سے یہی طریقہ کار اپناتے ہیں۔ جے ایس ایس پرائیویٹ اسکول کی پرنسپل چترا شرما نے کہا کہ موسمی پیش گوئی کی بروقت نگرانی انہیں حفاظتی اقدامات پہلے سے نافذ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر آن لائن لرننگ ڈے کا اعلان، بسوں کے شیڈول میں ردوبدل، یا اسکول کے اوقات میں تبدیلی جیسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اگر دورانِ اسکول موسم خراب ہو جائے تو بس آپریشنز فوری طور پر ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں، طلبہ و عملہ محفوظ مقامات پر رکھا جاتا ہے، اور مینٹیننس ٹیم کیمپس کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کرتی ہے۔
ووڈلم ایجوکیشن کے بانی و منیجنگ ڈائریکٹر نوفل احمد نے بتایا کہ ان کے اسکولز میں ایک معیاری پروٹوکول نافذ ہے جس کے تحت تمام کیمپس ایک ہی پالیسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عملے کو واضح ذمے داریاں سونپی جاتی ہیں جبکہ والدین کو فوری طور پر ایس ایم ایس، ای میل، اسکول ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ والدین اچانک موسمی تبدیلیوں کے دوران حیران نہ ہوں اور طلبہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا سکے۔







