
خلیج اردو
اگرچہ دنیا بھر میں مردانہ نس بندی (واسیکٹومی) کو ایک محفوظ، مؤثر اور طویل مدتی مانع حمل طریقہ مانا جاتا ہے، لیکن متحدہ عرب امارات میں یہ طریقہ اب بھی غلط فہمیوں، معاشرتی دباؤ اور مردانگی سے متعلق گہرے تصورات کا شکار ہے۔
ابوظہبی کے 34 سالہ رہائشی کریم (فرضی نام) نے 2019 میں جب اس طریقہ علاج پر غور کیا تو ایک مقامی کلینک میں ان کی درخواست کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ ’’یہ طریقہ یہاں غیر قانونی ہے‘‘، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک نجی کلینک میں بغیر چیر پھاڑ کے واسیکٹومی کروائی جو صرف 30 منٹ میں مکمل ہوئی، مگر اصل چیلنج جسمانی نہیں بلکہ معاشرتی تنقید اور غلط فہمی تھی۔
کریم کے مطابق، ’’ڈاکٹر نے بھی پہلا سوال یہی کیا کہ کیا بیوی کی رضامندی شامل ہے؟‘‘ جبکہ یہ فیصلہ دونوں میاں بیوی نے صحت کے خدشات کے تحت باہمی طور پر کیا تھا۔
آگاہی کی شدید کمی
2021 میں شائع ہونے والی یورولوجی اینلز کی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ میں صرف 13 فیصد مردوں نے اس طریقہ کار کے بارے میں کبھی سنا تھا اور صرف 0.4 فیصد نے یہ طریقہ اپنایا تھا۔ مذہبی، ثقافتی اور معلوماتی رکاوٹیں اس کی بنیادی وجوہات قرار دی گئیں۔
ابوظہبی کے یورولوجسٹ ڈاکٹر حسام زیتون نے کہا، ’’سب سے زیادہ خوف مردانگی، ٹیسٹوسٹیرون کی کمی یا جنسی صلاحیت سے متعلق ہوتے ہیں، جو سراسر غلط فہمیاں ہیں۔‘‘
واسیکٹومی کیا ہے؟
یہ ایک سادہ سرجری ہے جس میں اسپرم لے جانے والی نالیوں (واس ڈیفرینز) کو کاٹ کر یا بند کر دیا جاتا ہے تاکہ سپرم مادہ منویہ میں شامل نہ ہو سکیں۔ اس کا جنسی کارکردگی، ہارمونز یا مردانگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
مالی اور نظامی رکاوٹیں
اگرچہ واسیکٹومی متحدہ عرب امارات میں قانونی ہے، مگر اسے اکثر صحت انشورنس میں شامل نہیں کیا جاتا۔ دبئی کے ڈاکٹر محمد عارف کے مطابق، ’’اس پر خرچ 4,000 سے 10,000 درہم تک آ سکتا ہے اور مریض کو یہ رقم اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے۔‘‘
مزید یہ کہ خواتین کی مانع حمل مہمات کے برعکس، مردوں کے لیے نس بندی کے بارے میں کسی سرکاری سطح پر آگاہی یا مہم موجود نہیں۔
خاموشی میں چھپی بات چیت
چونکہ یہ موضوع عام مجالس یا میڈیا میں کھل کر زیر بحث نہیں آتا، اس لیے بہت سے مرد — خاص طور پر تارکین وطن — اس پر تبادلہ خیال کے لیے ریڈٹ یا نجی فیس بک گروپس کا سہارا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف کا کہنا ہے، ’’کچھ لوگ معلومات لے کر آتے ہیں، لیکن اکثر لوگ پوچھتے ہیں: ’کیا میری جنسی خواہش ختم ہو جائے گی؟‘ یا ’کیا لوگ جان جائیں گے؟‘ — یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتنا نجی اور الجھا ہوا معاملہ ہے۔‘‘
کریم نے بھی اب تک اپنے اہل خانہ یا دوستوں کو اس بارے میں نہیں بتایا۔ ’’ہمیں بچے نہیں چاہیے تھے، یہ ہمارا فیصلہ تھا۔ مگر میں ہر ایک کو یہ وضاحت نہیں دینا چاہتا کہ میں کوئی ناکام یا خودغرض انسان نہیں ہوں۔ یہ بس ایک ذاتی معاملہ ہے۔






