
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک غیر مسلم غیر ملکی شہری نے اسلامی ثقافت کو بہتر انداز میں سمجھنے کیلئے پہلی بار رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
برازیل سے تعلق رکھنے والے اور جنوبی افریقہ میں پرورش پانے والے جونئیر گومز گزشتہ دو برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، جہاں وہ بچوں کی اسپورٹس اکیڈمی میں ڈائریکٹر آف آپریشنز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جونئیر گومز کا کہنا ہے کہ "میں جاننا چاہتا تھا کہ مسلمان روزہ کیوں رکھتے ہیں اور وہ یہ کیسے کرتے ہیں”، اسی تجسس کے باعث انہوں نے رمضان کے دوران خود روزہ رکھنے کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ عمل مشکل محسوس ہوا، تاہم چند روز گزرنے کے بعد وہ اس تجربے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور خود میں مثبت تبدیلیاں محسوس کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق روزے نے انہیں خود پر قابو پانے، شکرگزاری اور دوسروں کی مدد کرنے جیسے اہم اسباق سکھائے ہیں، جبکہ دن کے آخری ایک یا دو گھنٹے سب سے زیادہ مشکل ثابت ہوتے ہیں جب پیاس اور بھوک میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جونئیر گومز روزانہ صبح چار بجے سحری کیلئے بیدار ہوتے ہیں اور متوازن غذا کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں، جس میں پروٹین شیک، انڈے اور روٹی شامل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رمضان سے قبل وہ اکثر باہر سے کھانا منگواتے تھے، لیکن اب وہ خود گھر پر کھانا تیار کر رہے ہیں، جو ان کیلئے ایک نیا اور خوشگوار تجربہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے نہ صرف انہیں اسلامی روایات کے قریب کیا بلکہ انہیں روزمرہ زندگی میں نظم و ضبط اور مثبت طرزِ فکر اپنانے میں بھی مدد دی۔







