متحدہ عرب امارات

کیا 180 دن سے زیادہ باہر پھنسے ہوۓ شہری واپس متحدہ عرب امارات واپس آسکتے ہیں

خلیج اردو(دبئی)
دُبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی (GDRFA)کے ایک اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے گلف نیوز کو دئے گئے انٹرویوں بتایا گیا ہے کہ وہ تارکین وطن جو چھ ماہ سے زائد عرصے سے امارات سے باہر پھنسے ہوئے ہیں، اگر ان کے پاس امارات کا ویزہ ہے تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے یو اے ای واپس آ سکتے ہیں۔

GDRFA کے آمر ڈیپارٹمنٹ فار دی ہپنیس آف کسٹمر کے ڈائریکٹر میجر سالم بن علی نے بتایا ہے کہ چھ ماہ سے زائد عرصہ سے مقیم افراد کے کارآمد ویزے کے ساتھ دُبئی واپس آنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، اگر ان کے آبائی ملک اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فلائٹ آپریشنز جاری ہے تو وہ جب چاہیں، واپس آ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دُبئی واپسی کے لیے اجازت نامے کی درخواست سسٹم کے بند ہونے یا ویزہ منسوخ ہونے کی وجہ سے مسترد ہو سکتی ہے۔اجازت نامے کی درخواست مسترد ہونے ، یا اقامہ بلاک ہونے کی صورت میں آمر سنٹر سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے یا کال سنٹر پر کال کر کے اپنا مسئلہ بیان کیا جا سکتا ہے۔

آمر سنٹر کی جانب سے کیس سے متعلق مسئلے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ جس کے بعد اجازت نامہ جاری ہونے کی صورت میں تارکین وطن واپس دُبئی آ سکتے ہیں۔ میجر بن علی نے تمام تارکین کو بتایا کہ اس سلسلے میں امیر سنٹر کے نمبر 0097143139999 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے یاپھر ای میل پر ای میل بھیجی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ دُبئی میں تارکین وطن کے ویزہ معاملات دیکھنے والے ادارے GDRFA کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص12 جولائی کے بعد اپنا ویزہ منسوخ کرواتا ہے تو اسے ایک مہینے کا وقت دیا جائے گا ، جس کے دوران اسے امارات سے باہر جانا ہو گا یا پھر اپنا ویزہ سٹیٹس بدلوانا ہو گا، ورنہ اس مُدت کے اس پر جرمانے عائد ہوں گے۔

دُبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ اینڈ فارنرز افیئرز (DGRFA)کے امیر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل میجر سالم بن علی نے ایک انٹرویو کے دوران گلف نیوز کو بتایا ”اب ویزہ پالیسی کورونا کی وبا سے پہلے والے مقام پر آ گئی ہے۔ اگر کوئی شخص 12 جولائی کے بعد اپنا رہائشی ویزہ منسوخ کرواتا ہے تو اسے ایک ماہ کی رعایتی مُدت کے دوران امارات سے چلے جانا ہو گا یا پھر اپنا ویزہ سٹیٹس بدلوانا ہو گا، تاکہ اس پر غیر قانونی قیام کے باعث جرمانوں کی نوبت نہ آئے۔“

 

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button