
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں مہنگائی الاؤنس اسکیم جاری ہے جس کے تحت کم آمدنی والے اماراتی خاندانوں کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یہ اسکیم 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی اور رواں سال اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے دوبارہ ترتیب دیا گیا تاکہ معاشرتی تحفظ صرف ان طبقات کو ملے جو واقعی ضرورت مند ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اس اسکیم سے وہ خاندان فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 25 ہزار درہم سے کم ہو۔ اسکیم کے تحت ایندھن، کھانے پینے، بجلی اور پانی کے اخراجات میں مدد دی جاتی ہے جبکہ کابینہ کی منظوری سے مزید سہولتیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
اہلیت کے اصولوں میں یہ شامل ہے کہ خاندان کا سربراہ یا اس کا شریک حیات ملازمت یا پنشن سے منسلک ہو یا ریٹائرڈ ہو، کم از کم عمر 21 برس ہو اور بچوں کی عمر 21 سال سے کم ہو۔ تاہم بزرگ شہری (60 برس سے زائد)، بیوہ یا مطلقہ خواتین (45 برس یا اس سے زائد عمر کی) اور 45 سال سے کم عمر مطلقہ یا بیوہ خواتین جن کے زیرکفالت بچے ہوں، خصوصی استثنیٰ کی بنیاد پر اس سہولت کی حقدار ہیں۔
معاشی مدد میں ایندھن کے نرخوں کے مطابق 300 سے 900 درہم تک ماہانہ دیا جاتا ہے، کھانے پینے کے لیے بنیادی مستحق کو 500 درہم، ایک اماراتی بیوی کو 500 درہم اور 21 سال سے کم عمر ہر بچے کو 250 درہم (زیادہ سے زیادہ 4 بچوں تک) فراہم کیے جاتے ہیں۔ یتیم بچوں اور قیدیوں کے بچوں کے لیے خصوصی انتظام بھی موجود ہے۔ بجلی اور پانی کے بلوں میں 400 درہم یا اصل ماہانہ کھپت (جو کم ہو) کی حد تک رعایت دی جاتی ہے۔
ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایندھن اور خوراک کی رقم براہ راست مستحق کے امارات آئی ڈی کارڈ میں جمع کی جاتی ہے جبکہ بجلی اور پانی کے اخراجات بل سے براہ راست منہا ہوتے ہیں۔
درخواست دینے کے لیے خاندانوں کو وزارت کمیونٹی ایمپاورمنٹ کی ویب سائٹ پر یو اے ای پاس کے ذریعے رجسٹریشن کر کے مطلوبہ دستاویزات جمع کرانی ہوتی ہیں۔ کارروائی کا وقت دس ورکنگ ڈیز تک بتایا گیا ہے۔
اس پروگرام کے لیے 3.5 ارب درہم کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اس کی مدت 2025 تک بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کو وقتاً فوقتاً مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور قومی ترجیحات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔
یہ اسکیم حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے اماراتی خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے اور ان کے معاشرتی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔







