متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں پیشگی نوٹس دیئے بغیر جاب کیسے چھوڑی جاسکتی ہے؟

خلیج اردو
14 اکتوبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتے ہوئے قوانین سے اگاہی ضروری ہے۔ بصورت دیگر کوئی آپ کی حق تلفی کر سکتا ہے یا آپأ نہ چاہتے ہوئے بھی قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

خلیج ٹائمز کے قارئین ملازمت اور دیگر قوانین سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں اور ان کے جواب سے جہاں سوال پوچھنے والے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے وہاں دیگر شہریوں کیلئے بھی قانون سے متعلق اگاہی ملتی رہتی ہے۔ ایسے ہی ایک سوال اور اس کا جواب آپ کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔

سوال: میں دبئی ہیلتھ کیئر کے ایک فرم میں کام کرتا تھا۔ مجھ سے میرے ارباب نے دیگر ساتھیوں کو اٹھ مہینوں سے تنخواہ ادا نہیں کی۔ ان کا نہ تو کوئی پیسے دینے کا ارادہ ہے نہ ان کے بقول ان کے پاس کوئی پیسے ہیں۔میں نے کسی طرح سے دوسری جاب ڈھونڈ لی ہےاور میں اپنا ویزہ اور سپانسرشپ بدلنا چاہتا ہوں۔ کیا میں یہ بیان دستخط کیے بغیر کہ میں نے سب غیرادا کیے فنڈز حاصل کر لیے ، دوسری جاب جوائن کر سکتا ہوں؟

جواب: آپ کے سوال سے واضح ہے کہ آپ دبئی ہیلتھ کیئر سٹی اتھارٹی کی زیرنگرانی کام کرنے والے ہیلتھکیئر میں کام کرتے ہیں۔ اس صورت میں آپ پر 1980 کے وفاقی قانون نمبر 8 ، منسٹریل ڈیکری نمبر 766 آف 2015 کا اطلاق ہوتا ہے۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ اگر آپ کا ارباب آپ کی تنخواہ ادا نہیں کرتا تو لوگ دوسری جاب کرنے لگتے ہیں۔ ملازمت کے قانون کے آرٹیکل 121 کے مطابق ملازم اپنی خدمات کا اختتام کرسکتا ہے اور اس کیلئے نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دو صورتوں کا وہ سامنا کررہا ہو۔

اگر ارباب ملازم کو وہ تمام سہولیات اور مراعات نہ دے پارہا ہو جو معاہدے کا حصہ ہو۔
اگر ارباب نے ملازم کے خلاف کوئی ایسا اقدام کیا ہو جو قانون کے منافی ہو۔

آپ کی صورت میں آپ دبئی ہیلتھ کیئر سٹی اتھارٹی کے کسٹمر پروٹیکشن یونٹ سی پی یو میں درخواست دے سکتے ہیں اور آپ ان سے اپیل کریں کہ وہ آپ کا نئے ارباب کے ساتھ کام کی اجازت دیں۔ یہ آرٹیکل 1 کے پیرا 3 آف منسٹریل ڈیکری نمبر 766 آف 2015 کے عین مطابق ہے۔پیرا ون اور ٹو میں لکھا ہے کہ ایک ملازم کو نئے کام کی اجازت دی جا سکتی ہے اگر اس کا پرانے ارباب اسے واجبات ادا نہ کررہا ہو۔ اگر 60 دن سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہو اور ارباب تنخواہ نہ دیتا ہو۔

آپ سی پی یو کو شکایت کرتے ہوئے اپنی نئی ملازمت کی پیشکش کا خط بھی لف کیجئے گا۔ ڈی ایچ سی اے آپ کی موجودہ ملازمت کا معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ ایسے میں آپ کی ارباب کے خلاف واجبات نہ ادا کرنے کی درخواست پھر بھی موئثر رہے گی۔ سی پی یو آپ کو ڈی ایچ سی اے کی جانب سے دیا گیا ایک خط جاری کر سکتا ہے جو متعلقہ عدالت کیلئے ہو کہ وہ آپ کا کیس سنیں۔

آپ کیلئے مزید جانکاری ہو کہ ایک بار جب ڈی ایچ سی اے نے آُپ کی موجودہ ملازمت ختم کر دی تو آپ جی ڈی آر ایف اے کے پاس جاکر درخواست دے سکتے ہیں کہ وہ آپ کا موجودہ ویزہ ختم کرے اور جب آپ کا ویزہ منسوخ ہو جائے گا تو آپ اپنے ارباب کو ساری صورت حال سے اگاہ کیجئے گا۔

یہ بات واضح ہو کہ آپ پھر بھی اپنے ارباب کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں جو آُ کا قانونی حق ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button