متحدہ عرب امارات

جب دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 1985 کے لائیو ایڈ کنسرٹ میں قحط زدہ ایتھوپیا کے لیے لاکھوں پاؤنڈ عطیہ کیے

خلیج اردو
دبئی: آج سے چالیس سال قبل 1985 میں دنیا نے انسانیت کی ایک عظیم مثال دیکھی، جب لاکھوں افراد نے قحط سے متاثرہ ایتھوپیا کے لیے Live Aid کنسرٹ کے ذریعے امداد اکٹھی کرنے میں حصہ لیا۔ اس عالمی مہم میں سب سے بڑی انفرادی مالی امداد دبئی کے حکمران، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے کی گئی، جنہوں نے ایک ملین پاؤنڈ سٹرلنگ عطیہ کیا۔

پس منظر: قحط زدہ ایتھوپیا کی پکار

1980 کی دہائی کے اوائل میں ایتھوپیا کو شدید خشک سالی اور خانہ جنگی نے گھیر لیا۔ مارکسی حکومت اور بغاوت کرنے والے گروہوں کے درمیان جھڑپوں نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، اس قحط میں چار سے دس لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔

ایتھوپیا میں انسانی المیے کی تصاویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور عالمی سطح پر مدد کی شدید ضرورت محسوس کی گئی۔

Live Aid کا انعقاد اور ابتداء میں مایوسی

13 جولائی 1985 کو Live Aid کنسرٹ بیک وقت لندن کے ویملے اسٹیڈیم اور امریکہ کے جان ایف کینیڈی اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔ تقریباً 2 ارب افراد نے 150 ممالک میں یہ کنسرٹ براہ راست دیکھا، جو اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا ٹی وی نشریاتی پروگرام تھا۔

مگر ابتدائی چند گھنٹوں میں ٹیلیفون کے ذریعے آنے والے عطیات توقعات سے بہت کم تھے— صرف 10 ہزار پاؤنڈ تک۔ منتظمین پریشانی کا شکار ہو گئے کہ اتنے بڑے موسیقی پروگرام کے باوجود ہدف پورا نہ ہو پائے گا۔

شیخ محمد کا تاریخی عطیہ

اسی موقع پر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے لندن میں موجود اپنے مجلس سے کنسرٹ کی براہ راست نشریات دیکھتے ہوئے ایک ملین پاؤنڈ کا عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ برطانوی سفارتی ذرائع کے مطابق، ابتدا میں منتظمین کو اس عطیہ پر یقین نہ آیا، لیکن لندن میں موجود شیخ محمد کے دفتر سے تصدیق کے بعد یہ خوشخبری دنیا کو ملی۔

ان کے اس تاریخی عطیے نے نہ صرف مہم کو نئی زندگی دی بلکہ پوری دنیا میں عوامی دلچسپی دوبارہ بڑھی اور امداد کا سلسلہ تیزی سے شروع ہوا۔

کنسرٹ کی کامیابی اور عالمی اثر

شیخ محمد کے عطیے کے بعد Live Aid نے مجموعی طور پر 100 ملین ڈالر سے زائد رقم جمع کی، جو ایتھوپیا میں انسانی جانیں بچانے میں استعمال ہوئی۔ اس کنسرٹ نے آنے والی دہائیوں میں فلاحی موسیقی پروگراموں کی ایک نئی روایت قائم کی، جس نے دنیا بھر میں انسانیت کے لیے فن اور قیادت کی طاقت کو اجاگر کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button