متحدہ عرب امارات

جب شیخ زاید نے 44 برس قبل یو اے ای کے دور دراز شہر میں اسپتال کا افتتاح کیا

خلیج اردو
غیاثی: آج سے 44 برس قبل، 21 دسمبر کو، متحدہ عرب امارات کے بانی صدر، مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان نے غیاثی کے دور افتادہ قصبے میں 50 بستروں پر مشتمل اسپتال کا افتتاح کیا، جو عوامی فلاح و بہبود اور ہر شہری تک صحت کی سہولیات پہنچانے کے ان کے وژن کا عملی اظہار تھا۔ یہ اقدام اس عزم کی علامت تھا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ دور دراز علاقوں کے مکین بھی ان سے مستفید ہوں۔

افتتاحی تقریب میں مغربی ریجن میں ابو ظبی کے حکمران کے نمائندے شیخ محمد بن بُطی، صدر کے نمائندے احمد خلیفہ السویدی، اعلیٰ سرکاری حکام اور مقامی معززین نے شرکت کی، جس سے علاقے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو دی جانے والی اہمیت واضح ہوئی۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ اسپتال مقامی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا، جہاں مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ آؤٹ پیشنٹ کلینکس کے ساتھ متعدد طبی اور علاجی شعبے قائم کیے گئے۔ اس وقت یہ مغربی ریجن میں طبی سہولیات کے میدان میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جاتی تھی۔

افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ زاید نے ملک میں صحت کی سہولیات میں ہونے والی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں تک معیاری طبی خدمات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس اسپتال کا قیام عوامی امنگوں کی تکمیل اور جدید صحت کے نظام کی بنیاد مضبوط کرنے کی ایک اور کڑی تھا۔

اس موقع پر اُس وقت کے وزیر صحت حمد المدفع نے صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شیخ زاید کی جانب سے ذاتی طور پر اسپتال کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر جگہ گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

اسپتال پہنچنے پر بڑی تعداد میں مقامی باشندوں نے شیخ زاید کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر صحت کے ہمراہ انہوں نے اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور حاصل کردہ معیار پر اطمینان کا اظہار کیا، جو ان کی عوام دوست قیادت اور عملی طرز حکمرانی کی ایک یادگار مثال ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button