
خلیج اردو
06 ستمبر 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ رہائشی ویزہ میں ایک کیٹگری گرین ویزہ کا اجراء کررہا ہے جس میں رہائشیوں کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنے والدین اور بچوں کو اسپانسر کرے۔ بچوں کی زیادہ سے زیادہ عمر اب اٹھارہ کے بجائے پچیس سال کر دی گئی ہے۔
گرین ویزہ کمپنیوں سے جڑےورک پرمٹ سے تعلق نہیں رکھتا ہوگا اور اس میں انتہائی ہنرمندافراد، صنعتکار ، آنٹرانیورز ، ٹاپ اسٹوڈنٹس اور گریجویٹس شامل ہوں گے۔
وزیر برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر تھانی الزیودی نے فری لانس کیٹگری میں ویزہ ہولڈرز کو مدعو کیا ہے تاکہ زیادہ ٹیلنٹڈ افراد کو مائل کیا جاسکے۔
ڈاکٹر الزیودی ان وزراء میں شامل ہیں جنہوں نے پچاس سالہ تقریبات کی خوشی میں پچاس انیشیٹیو کے پہلے بیچ کا اعلان کرگئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گرین ویزہ ہولڈرز کو 90 سے 180 دنوں کا وقت دیا جائے گا جب ایک بار ان کے ویزہ ایکسپائر ہونگے۔
گرین ویزہ میں اگر ایک شخص جو خودمختار ہو اور وہ اٹھارہ کے بجائے پچیس سال تک کی عمر میں والدین کو اسپانسر کر سکتا ہے،
فری لانس کا ویزہ خودمختار کاروبار کے مالک یا سلف ایمپلائیڈ اینڈیویجول کو دیا جائےگا۔ یہ ایک خصوصی ویزہ ہے جو قابل ہنرمندوں کو مائل کرے گا۔
گلف نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین ویزہ بہت سے لوگوں کیلئے کھلا ہوگا۔اس حوالے سے سرمایہ کار ، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کرنے والے ، قابل افراد ، سائنسدانوں اور طلبہ کو یہ ویزہ فراہم کیا جائے گا۔اس حوالے سے تفصیلات جیسے ویزہ کی معیاد وغیرہ جلد سامنے آئی گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ہم ویزہ ریفارمز لا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مقصد بہترین انسانی خدمات فراہم کرنا ہے۔ ہم ہر حوالے سے یقینی بنائیں گے کہ متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔
ہم ان کی طرز زندگی میں توازن قائم رکھیں گے تاکہ وہ ملک کی معیشت میں اہم کردار کر سکیں۔
Source : Khaleej times







