
خلیج اردو
منیلا: فلپائن میں عوامی فنڈز کے غلط استعمال کی تاریخ پرانی ہے۔ 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ’’پرآیوریٹی ڈویلپمنٹ اسسٹنس فنڈ‘‘ (PDAF) یعنی ’’پورک بیرل‘‘ فنڈ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس نظام کو ختم کر دیا۔ یہ فیصلہ جسٹس ایسٹیلا پرلاس برنابے نے ’’بیلجیکا بمقابلہ اوچوا‘‘ کیس میں تحریر کیا، جس کے تحت تمام وہ قوانین کالعدم ہو گئے جو اراکین پارلیمنٹ کو اختیاری لَمپ سم فنڈز مہیا کرتے تھے۔
یہ فیصلہ ان اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے ایک جھٹکا تھا جنہوں نے برسوں تک اس نظام کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ سپریم کورٹ نے سابقہ اور موجودہ دونوں PDAF الاٹمنٹس اور اس سے جڑے دیگر ’’کانگریشنل انسَرشنز‘‘ کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔
اس سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس اسکینڈل کے ذریعے کم از کم 10 ارب پیسو عوامی خزانے سے غائب ہو گئے، جن میں زرعی کھاد کے فنڈز اور ملامپایا گیس فیلڈ کی رائلٹی کی رقوم بھی شامل تھیں۔ اس اسکینڈل کی مرکزی ملزمہ جینیٹ لم ناپولیس کو قرار دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے یہ پابندی تین بنیادی وجوہات پر عائد کی:
* **آئین کی خلاف ورزی**: لَمپ سم فنڈز نے اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو توڑا۔ بجٹ سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے لیکن اختیاری فنڈز نے احتساب کے عمل کو نظرانداز کر دیا۔
* **کرپشن کا ذریعہ**: ’’پورک بیرل‘‘ فنڈز کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی علامت بن گئے۔ فنڈز جعلی این جی اوز اور ذاتی مفادات پر خرچ ہوئے۔
* **شفافیت اور احتساب کی کمی**: فنڈز کے استعمال کے لیے کوئی واضح اصول موجود نہ تھے جس کے باعث سیاسی اقربا پروری اور بدعنوانی کو فروغ ملا۔
تاہم اس پابندی کے بعد بھی ’’بجٹ انسَرشنز‘‘ کے نام پر نئے راستے تلاش کر لیے گئے، جن کے تحت اراکین پارلیمنٹ بجٹ میں مخصوص منصوبے شامل کراتے ہیں۔ اگرچہ یہ رسمی بجٹ عمل کا حصہ ہوتے ہیں لیکن شفافیت کی کمی کے باعث ان میں بھی کرپشن کے وہی خطرات موجود ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان ہی بجٹ انسَرشنز کے ذریعے 25 ارب ڈالر سے زیادہ رقم کرپشن کی نذر ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’پورک‘‘ سیاست ایک نئے نام اور شکل میں آج بھی جاری ہے۔







