متحدہ عرب امارات

خوبصورت بچیوں کو قتل کرنے والی خاتون گرفتار، حسد کی بنیاد پر چار معصوم جانیں لینے کا اعتراف

خلیج اردو
ہریانہ کے ضلع پانی پت میں چھ سالہ ویدھی کے دل دہلا دینے والے قتل کے بعد پولیس نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ملزمہ پونم کو گرفتار کر لیا، جس نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ خوبصورت بچیوں سے شدید حسد محسوس کرتی تھی اور ڈر تھا کہ یہ بڑی ہو کر اس سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گی۔ اسی حسد نے اسے ایک نفسیاتی قاتلہ بنا دیا۔

یکم دسمبر کو جب خاندان شادی کی تقریب میں مصروف تھا، ویدھی گم ہو گئی۔ تلاش کے بعد اس کی لاش گھر کی پہلی منزل پر موجود سٹور روم سے ملی، جہاں وہ پانی سے بھرے ٹب میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کمرے کا دروازہ باہر سے بند تھا۔ ویدھی اپنے والدین کے ساتھ شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی، جبکہ اس کی چچی پونم بھی اسی گھر میں موجود تھیں۔

پولیس نے ہر زاویے سے تفتیش کے بعد 3 دسمبر کو پونم کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ شادی میں گھر کے مردوں کے باہر جانے کے بعد پونم نے کسی بہانے ویدھی کو سٹور روم میں لے جا کر مبینہ طور پر اسے ٹب میں ڈبو کر قتل کیا اور پھر بالکل معمول کے مطابق نیچے آ کر بات چیت میں مصروف ہو گئیں۔

گرفتاری کے بعد کیے گئے انکشاف نے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔ پونم نے اعتراف کیا کہ یہ پہلا قتل نہیں تھا۔ اس نے 2023 میں اپنے گھر سونی پت میں اپنی نو سالہ بھتیجی کو پانی کی ٹینکی میں ڈبو کر قتل کیا۔ شک نہ جائے، اسی ٹینکی میں اپنے تین سالہ بیٹے کو بھی قتل کر دیا تاکہ خاندان اسے حادثہ سمجھ لے۔ اگست 2025 میں اس نے ایک اور چھ سالہ رشتہ دار بچی کو بھی اسی طرح قتل کیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ بھوپندر سنگھ کے مطابق پونم ایک تعلیم یافتہ خاتون ہے، ایم اے پولیٹیکل سائنس اور بی ایڈ کی ڈگری رکھتی ہے، مگر تفتیش میں اس کا رویہ ایک سائیکو کلر کی طرح سامنے آیا ہے۔ قتل سے پہلے وہ غیر معمولی طور پر خاموش اور اکیلے رہتی تھی، اور قتل کے بعد کبھی احساسِ جرم ظاہر نہیں کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پونم رشتے دار بچیوں کی خوبصورتی دیکھ کر حسد میں جلتی تھی اور اسے برداشت نہیں تھا کہ خاندان میں کوئی لڑکی اس سے زیادہ خوبصورت ہو۔ یہی نفسیاتی کیفیت اسے مسلسل وارداتوں تک لے گئی۔

پولیس نے پونم کو جوڈیشل حراست میں منتقل کر دیا ہے، جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button