خلیج اردو
دبئی: اپریل 2024 میں یو اے ای میں آنے والے شدید سیلاب، جس کے باعث ملازمین گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے کئی حصے مفلوج ہو گئے، کئی کمپنیوں کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے، جس کے بعد غیر مستحکم موسم کے دوران ورک فرام ہوم پالیسیوں میں نرمی اور ملازمین کی حفاظت کو ترجیح دی جانے لگی۔
نجی کمپنی میں ہیومن ریسورسز کی سربراہ کارلا ایم نے بتایا کہ ان کی کمپنی میں ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کا اختیار حاصل ہے، یہ پالیسی وبا کے بعد متعارف کرائی گئی تھی اور بعد ازاں ملازمین کی رائے کی بنیاد پر اس میں مزید بہتری کی گئی۔ ان کے مطابق شدید بارش یا اپریل 2024 جیسے غیر معمولی موسمی حالات میں انتظامیہ ملازمین کے پوچھنے کا انتظار نہیں کرتی بلکہ پیشگی طور پر ان کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے گھر سے کام کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ملازمین پر چھوڑا جاتا ہے۔
کارلا ایم کے مطابق کمپنی نے سیلاب کے باعث سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے ملازمین کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے، جب متعدد میٹرو اسٹیشن بند تھے اور ٹرینیں محدود رفتار سے چل رہی تھیں، تو کمپنی نے قریبی علاقوں میں رہنے والے دو سے تین ملازمین کے لیے ڈرائیور فراہم کیے، جس سے متاثرہ دنوں میں سفر کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہوا۔
تاہم تمام ملازمین کو یکساں سہولت حاصل نہیں رہی۔ میڈیا سے وابستہ سابق پی آر پروفیشنل عبدالماجد اعوان نے بتایا کہ اپریل کے سیلاب کے دوران، موسمی انتباہات اور وزارتِ انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن کی جانب سے ورک فرام ہوم کی ترغیب کے باوجود، انہیں بارش کے تیسرے روز دفتر حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی۔
عبدالماجد اعوان کے مطابق ان کا روزمرہ سفر تقریباً چار گھنٹوں تک پھیل گیا، میٹرو کے لیے دو گھنٹے سے زائد انتظار کرنا پڑا، ٹرینیں انتہائی کم رفتار سے چل رہی تھیں اور کئی اسٹیشن سیلاب اور خرابیوں کے باعث بند تھے، جس کے باعث ایک معمول کا سفر جسمانی اور ذہنی طور پر نہایت تھکا دینے والا بن گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی حاضری لازمی قرار دی گئی تھی، حالانکہ ان کا تمام کام آن لائن ممکن تھا، اور انہیں واضح طور پر کہا گیا کہ دفتر نہ آنے کی صورت میں ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ ان کے مطابق وہ ایک ایونٹس کمپنی میں کام کرتے تھے لیکن تمام میٹنگز اور دفتری امور ریموٹ طریقے سے انجام دیے جا سکتے تھے۔
عبدالماجد اعوان کا کہنا ہے کہ ان تجربات نے ورک فرام ہوم کے تصور پر ان کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا، ان کے مطابق کووڈ 19 کے دوران یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عالمی بحران میں ریموٹ ورک مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے، لہٰذا شدید موسمی حالات میں بھی جہاں ممکن ہو اسے لازمی قرار دیا جانا چاہیے، اگرچہ کچھ ملازمتیں جسمانی موجودگی کی متقاضی ہوتی ہیں، لیکن بیشتر کارپوریٹ عہدے گھر سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔







