
خلیج اردو
دبئی، 27 اکتوبر 2025:
اماراتی ہوٹل انڈسٹری کے بانی اراکین میں شمار ہونے والے ناصر النوویس نے یاد کیا کہ 1987 میں جب وہ ابوظہبی نیشنل ہاسپیٹیلٹی (ADNH) کے سربراہ تھے، تو ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج تھا — ان کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کرنے والے مہمان موجود نہیں تھے۔
ناصر النوویس کے مطابق اُس وقت ابوظہبی میں سیاحت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے سیاح لائے جائیں۔ 1988 میں برلن میں ٹریول فیئر میں شرکت کے بعد ابوظہبی نے اپنے پہلے ایک ہزار سیاحوں کا خیر مقدم کیا۔ آج، 2025 میں، ابوظہبی صرف پہلی سہ ماہی میں ہی 14 لاکھ رات گزارنے والے مہمانوں کی میزبانی کرچکا ہے، جو اس ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ناصر النوویس نے اپنی یہ داستان دبئی کے مدینہ جمیرہ میں منعقد ہونے والے "فیوچر ہاسپیٹیلٹی سمٹ” کے افتتاحی دن بیان کی۔ تین روزہ اس اجلاس میں دنیا بھر سے مہمان نوازی کے شعبے کے سرمایہ کار اور فیصلہ ساز شریک ہیں۔
ان کے ساتھ اسٹیج پر جیرالڈ لاولیس بھی موجود تھے، جو 1970 کی دہائی کے آخر میں دبئی آئے اور 1997 میں جمیرہ گروپ میں شامل ہوکر برج العرب جیسے دنیا کے پرتعیش ترین ہوٹل کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دونوں نے شرکاء کو ماضی کی حسین یادوں، نایاب تصویروں اور دلچسپ قصوں سے محظوظ کیا۔
ناصر نے بتایا کہ ابتدائی ایک ہزار سیاحوں کا خود خیر مقدم کیا جاتا تھا، انہیں ہوٹلوں تک پہنچایا جاتا اور شہر کے تفریحی مقامات کی سیر کرائی جاتی۔ “ہم خود انہیں خوش آمدید کہتے تھے، تاکہ وہ ہماری اصل مہمان نوازی کا تجربہ کرسکیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک مہمان نوازی محض کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کا عمل تھی۔ انہوں نے اپنے وژن کا سہرا متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کو دیا، جنہوں نے مقامی ثقافت اور کھانوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہی کی رہنمائی میں ناصر النوویس نے بعد ازاں "روٹانا ہوٹلز” کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا بھر میں 80 سے زائد ہوٹل چلا رہا ہے۔
جیرالڈ لاولیس نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک رات انہیں صبح ایک بجے اطلاع ملی کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم جمیرہ بیچ ہوٹل کے معائنے پر آرہے ہیں۔ “میں فوراً نکل پڑا، تین سپیڈنگ ٹکٹ ملے، اور آخرکار شیخ محمد کی گاڑی پہنچی۔ وہ مسکرا رہے تھے اور بولے: دیکھو، تمہیں تیار ہونے کے لیے پورا ایک گھنٹہ دیا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ شیخ محمد اگلے دن اپنی ٹیم کے ساتھ اجلاس کے لیے آڈیٹوریم کا معائنہ کرنا چاہتے تھے تاکہ روشنی اور سیٹنگ کا جائزہ لیا جا سکے۔
جیرالڈ نے دبئی کی عالمی شناخت بنانے والے چند تاریخی لمحوں کو بھی یاد کیا، جیسے برج العرب کے ہیلی پیڈ پر راجر فیڈرر اور آندرے آگاسی کا ٹینس میچ اور ٹائیگر ووڈز کا اسکائی میں گولف شاٹ۔ “ان واقعات نے دبئی کو عالمی میڈیا پر نمایاں کیا۔”
دونوں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اماراتی مہمان نوازی کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں۔ ناصر نے کہا، “اپنی ٹیم کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرو جیسے اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ کرتے ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کامیابی خود بخود آتی ہے۔”
جیرالڈ نے جمیرہ گروپ کے تین سنہری اصول بتائے: “ہمیشہ مسکرا کر مہمانوں کو سلام کرو، کبھی بھی ‘نہیں’ سے بات شروع نہ کرو، اور اپنے ساتھیوں کا احترام کرو۔ احترام ہی مہمان نوازی کی بنیاد ہے۔”







