عالمی خبریںمتحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے خیرخواہوں کیلئے اچھی خبر، عالمی عدالت نے سوڈان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حق میں فیصلہ سنا دیا

خلیج اردو
ہیگ: بین الاقوامی عدالت انصاف  نے پیر کے روز سوڈان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو اس معاملے پر فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل نہیں۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے کے جواز کے فقدان کے باعث اسے مسترد کیا جاتا ہے، اور اس فیصلے کی بنیاد پر یہ کیس عدالت کے ریکارڈ سے حذف کر دیا جائے گا اور اس سے متعلق تمام کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی۔

سوڈان نے دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات دارفور کے تنازعے میں مداخلت کرتے ہوئے 2023 سے سوڈانی فوج کے خلاف برسرپیکار پیرا ملٹری گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ تاہم امارات نے ان الزامات کو "سیاسی ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

امارات نے فیصلے کے بعد جاری بیان میں کہا، "یہ فیصلہ اس حقیقت کی تصدیق ہے کہ سوڈانی مسلح افواج کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ باطل تھا۔”

یو اے ای کی نائب وزیر برائے سیاسی امور اور عالمی عدالت میں ملک کی نمائندہ، ریم کٹیت، نے فیصلے کے بعد کہا، "یہ فیصلہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ مقدمہ کسی قانونی جواز سے عاری تھا۔ یہ فیصلہ سوڈانی افواج کی جانب سے عدالت کو غلط معلومات پھیلانے اور اپنی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کی کوششوں کو فیصلہ کن طور پر رد کرتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "جیسے جیسے سوڈان میں جنگ اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، یو اے ای دونوں فریقین، سوڈانی فوج اور آر ایس ایف، سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جنگ ختم کریں، بغیر کسی شرط کے مذاکرات کا آغاز کریں اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنائیں۔”

ریم کٹیت نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ایک سویلین قیادت میں سیاسی عمل کی راہ ہموار کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سوڈانی عوام کے لیے ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈان مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دقلو کے درمیان شدید طاقت کی کشمکش کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے حتمی اور لازم العمل ہوتے ہیں، تاہم عدالت کے پاس ان پر عمل درآمد کروانے کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button