
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات آج دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ یومِ انسانیت 2025 منانے میں شریک ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس بات کی تجدید ہے کہ یو اے ای مشکل اور غیر معمولی حالات میں مبتلا دنیا کے مختلف ممالک کی مدد میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یو اے ای اس دن کو فخر کے ساتھ مناتا ہے کیونکہ اپنے قیام 1971 سے لے کر 2024 کے وسط تک ملک کی مجموعی غیر ملکی امداد 360 ارب درہم (98 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔ یہ امداد غربت کے خاتمے، قدرتی آفات اور بحرانوں کے ردعمل، سماجی و معاشی ترقی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے۔
یومِ انسانیت 2025 کا موضوع ہے: "عالمی یکجہتی کو مضبوط بنانا اور مقامی برادریوں کو بااختیار بنانا”۔ اس موضوع کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو اجاگر کرنا ہے تاکہ بحرانوں سے متاثرہ افراد کی مدد کی جا سکے اور مقامی برادریوں کو اپنے مستقبل کی تشکیل میں فعال شراکت دار بنایا جا سکے۔
اس موقع پر وفاقی و مقامی ادارے بین الاقوامی اور مقامی انسانی تنظیموں کے ساتھ مل کر کئی پروگرام اور سرگرمیاں منعقد کر رہے ہیں جن میں انسانی خدمت گاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا، یو اے ای کے عالمی انسانی کردار کو اجاگر کرنا اور میڈیا مواد کے ذریعے مقامی و عالمی اقدامات کے اثرات کو دکھانا شامل ہے۔
صدرِ مملکت شیخ محمد بن زاید النہیان اور نائب صدر و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی قیادت میں یو اے ای کی انسانی و فلاحی کوششیں دنیا بھر کے بحران زدہ خطوں تک پہنچ رہی ہیں۔ قیادت کا ویژن ہے کہ اجتماعی عالمی کوششوں کے ذریعے غربت اور مصیبت زدہ طبقات کی زندگی بہتر بنائی جائے اور پائیدار ترقی کو ممکن بنایا جائے۔
1971 سے لے کر 2024 تک کی غیر ملکی امداد کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یو اے ای نے ہمیشہ انسانی فلاح کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ یہ جذبہ بانیٔ مملکت شیخ زاید بن سلطان النہیان کی قائم کردہ روایت کا تسلسل ہے جنہوں نے ہر مذہب، نسل اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اولین ترجیح دی۔
حالیہ برسوں میں یو اے ای نے کئی بڑے اقدامات شروع کیے ہیں جن میں "زاید ہیومینیٹیرین لیگیسی انیشی ایٹو” جس کی مالیت 20 ارب درہم ہے، عالمی سطح پر انسانی منصوبوں کے لیے وقف ہے۔ اس کے علاوہ "انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین افیئرز کونسل” اور "یو اے ای انٹرنیشنل ایڈ ایجنسی” بھی قائم کی گئی ہے تاکہ تمام امدادی امور کو منظم اور شفاف انداز میں چلایا جا سکے۔
محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز فاؤنڈیشن کے پروگراموں نے صرف 2024 میں 118 ممالک کے 149 ملین افراد تک رسائی حاصل کی۔ اس دوران "مدرز انڈوومنٹ” مہم کے تحت ایک ارب درہم کا تعلیمی فنڈ قائم کیا گیا اور 2025 میں "فادرز انڈوومنٹ” مہم کے ذریعے صحت کی سہولتوں کے فروغ کے لیے اقدامات کیے گئے۔
یو اے ای کے اصولوں کے مطابق انسانی امداد کسی ملک، مذہب یا سیاست سے مشروط نہیں ہے۔ یہ امداد عالمی اہداف برائے پائیدار ترقی کے مطابق غربت کے خاتمے، صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسے شعبوں پر مرکوز ہے۔
پچھلے پانچ دہائیوں میں یو اے ای نے خود کو ایک نمایاں عالمی انسانی مرکز کے طور پر منوایا ہے اور آج بھی اپنی قیادت کے وژن کے تحت دنیا بھر میں انسانیت کے لیے امید کی کرن اور مدد کا ہاتھ بڑھاتا جا رہا ہے۔







