متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ویزہ اصلاحات، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

 

خلیج اردو

09 ستمبر 2021

دبئی : متحدہ عرب امارات نے ویزا اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس سے ملک میں نہ صرف موجود ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ اقوام عالم سے نیا تیلنٹ امارات کی طرف مائل ہوجائے گا۔ نئی اصلاحات میں گرین’ویزا ، وفاقی فری لانس پرمٹ اور ملازمین کے نوکریوں سے محروم ہونے کے بعد ملک سے باہر جانے کیلئے زیادہ گریس پیریڈ دینا شامل ہیں۔

 

یہ متحدہ عرب امارات کے 50 نئے منصوبوں کے پہلے سیٹ کا اعلان کرنے کے وقت سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے 50 ویں سال کیلئے ستمبر میں شروع کیے جائیں گے۔

 

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ برائے تجارت احمدالزویدی نے کہا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کیلئے گرین ویزا متعارف کرایا ہے جو کسی بھی کمپنی سے بطور ملازم منسلک نہیں ہوں گے۔ یہ ویزا ہولڈرز خود پر ہی انحصار کریں گے اور 25 سال تک کے بچوں اور والدین کی اسپانسرشپ کے قابل ہوں گے ۔

 

نئی کیٹگری متحدہ عرب امارات میں موجودہ تھری لیئر سسٹم کی تکمیل کرتا ہے جس میں گولڈن ویزا ، رہائشی ویزہ اور سیاحتی ویزا شامل ہے۔ مختصر مدت کے قیام اور فری لانس ویزوں میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اس کے علاوہ طلاق یافتہ خواتین اور 15 سال سے زائد عمر کے طلبہ کے ویزے میں بھی نرمی کی جائے گی جو یو اے ای میں کام کرنا چاہتے ہیں

 

یو اے ای کے وزیر تجارت کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے پیچھے بنیادی مقصد لوگوں کو رہنے کیلئے مزید اختیارات دینا ہے۔ متحدہ عرب امارات دنیا کے کونے کونے سے ٹیلنٹ کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے ۔ ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے کے معاملے میں ملک عالمی سطح پر 23 ویں نمبر پر ہے۔

 

انہوں نے کہا وبائی امراض کے دوران ہم نے طبی عملے اور ڈاکٹروں کی زیادہ ڈیمانڈ  دیکھی۔ مستقبل میں  کچھ معروضی مضامین ہوں گے جن کی عالمی سطح پر زیادہ ڈیمانڈ ہوگی۔ ہم پورے نظام کو دوبارہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ماحولیاتی نظام اور رہائشی نظام زیادہ ٹیلنٹ کو راغب کر رہا ہے۔ ہم نے تبدیلیاں کی ہیں لیکن ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہے گی۔

 

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button